بسم اللہ الرحمن الرحیم

جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں کشمیر سے عبدالصمد انقلابی کا سیاحوں کو خوش آمدید

اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے چیئرمین اور سینئر حریت پسند رہنما عبدالصمد انقلابی کا سیاحوں کے نام پیغام

اقوام عالم کے سیاحوں کے نام جموں کشمیر میں آپ لوگوں کا خیر مقدم ھے۔ آپ جہاں بھی رہتے ہیں، جو بھی آپ کا مذہب ہے اور جو بھی زبان آپ بولتے ہیں۔ انسانی رشتے سے آپ ہمارے بھائی ہیں۔ آپ ہمارے مہمان ہیں اور مہمان کی عزت اور حفاظت کرنا ہماری دینی، سیاسی، سماجی، روحانی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے اور فرض بھی ہے۔ ہم جموں کشمیر میں آپ کی لوگوں کی مدد کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔ کیا آپ اپنے میزبان بھائی کے بارے میں کچھ جاننا پسند کریں گے؟ کیا آپ جموں کشمیر کے پرابلم کے بارے میں کجھ سننے کے لۓ تھوڑا ساوقت نکال سکیں گے؟ ہاں…..امید ہے کہ آپ ایسا کریں گے۔

ہمارے بھائی! آپ کا یہ میزبان کوئی دہشت گرد یا انتہا پسند نہیں ہے۔ ہم کسی مذہب یا عقیدے کے خلاف نہیں اور ہمیں بھارت یا کسی اور ملک کےباشندوں کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے۔ ہم “جیو اور جینے دو” کے اصول کے تحت تمام انسانوں کے ساتھ بھائی چارے کا رشتہ قائم کرنا چاہتے ہیں … لیکن … آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہمیں جبراً غلام بنالیا گیا ہے۔ جس طرح کسی زمانے میں انگریزوں نے بھارت باسیوں کو غلام بنالیا تھا….میرے بھائی! آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ جموں کشمیر بھارت کا کوئی جائزحصہ نہیں ہے، بلکہ یہ ریاست 1947ء تک ایک الگ ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر موجود تھے۔

بھارت نے 27 اکتوبر 1947ء کو یہاں اپنی فوجیں اتار کر اس خطے پر جبری قبضہ جمایا اور جموں کشمیر کے لوگوں کی آزادی کوزبردستی ان سے چھین لیا۔ جب سے اب تک آپ یہ بھائی اور اس کی پوری قوم مصیبتیں اٹھا رہی ہے۔

مزید پڑھیے  مسرت عالم بھٹ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مقرر

میرے بھائی! میں یہ کوئی کہانی آپ کو نہیں سنا رہا ہوں، بلکہ اس کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ پوری عالمی برادری جموں کشمیر کو ایک تنازعہ مانتی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آج تک 18 قراردادیں پاس ہوئی ہیں، جن میں جموں کشمیر کے لوگوں کی حق خودارادیت کو تسلیم کرلیا گیا ہے اور یہ سفارش کی گئی ہے کہ یہاں کے لوگوں کو رائے شماری کے ذریعے سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے …. میرے بھائی! بھارت کے پہلے وزیر اعظم مسٹر جواہرلعل نہرو نے ہندوستانی پارلیمنٹ اور سرینگر کے لالچوک میں یہ وعدہ کیا ہے جموں کشمیر کے لوگوں کو اپنا فیصلہ کرنے کا موقعہ دیا جائے گا۔ آنجہانی کے یہ الفاظ بھارتی پارلیمنٹ کی کارروئی میں آج بھی درج ہیں کہ “ہم جبری شادیوں کے قائل نہیں ہیں۔ جموں کشمیر کے لوگ اگر ہمارے ساتھ نہیں رہنا چاہتے ہیں، تو ہم زبردستی ان کو نہیں روکیں گے۔ رائے شماری کے نتیجے میں جو بھی لوگوں کا فیصلہ ہوگا، ہم اس کو کھلے دل سے قبول کرینگے” میرے بھائی! بھارتی حکمران آگے چل کر ان تمام وعدوں سے مکر گئے اور جموں کشمیر پر اپنا جبری فوجی قبضہ جاری رکھا۔ جموں کشمیر کے لوگ اسی قبضے کے خلاف پچھلے 77 سال سے جدوجہد کررہے ہیں، جس طرح بھارت باسیوں جیسے مہاتما گاندھی، سبھاش چندربوس، بھگت سنگھ اور سکھدیو نے انگریزوں کے قبضے کے خلاف کی تھی۔

میرے بھائی! بھارت ایک بڑا جمہوری ملک ہونے کا دعویدار ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ وہ جموں کشمیر کے لوگوں کے جمہوری اور پیدائش حق کو قبول کرتا اور انہیں فیصلہ کرنے کا موقعہ فراہم کرتا…لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے، بلکہ اس کے برکس وہ اپنے ریاستی پاور کو استعمال کر کے جموں کشمیر کے لوگوں کی جائز مانگ کو دبانا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیے  پنڈت رہنما سمپت پرکاش کی اچانک موت کی خبر سن کر بہت دکھ ہوا ہے، عبدالصمد انقلابی

اپنا جمہوری حق مانگنے کے جرم میں جموں کشمیر کے لوگوں پر گولیاں چلائی جاتی ہیں۔ 1947ء سے لیکر آج تک قریب سات 7 لاکھ لوگوں کو شہید کیاگیا۔ صرف پچھلے 35 سال کے دوران میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو شہید کیا گیا اور دس ہزار لوگوں کو گرفتار کرنے کے بعد لاپتہ کردیا گیا۔ اس عرصے کے دوران میں 7 ہزار خواتین کی یا تو اجتماعی عصمت دری یا تذلیل و تضحیک کی گئی۔ شمالی کشمیر کے سرحدی علاقوں میں 3000 نامعلوم قبریں دریافت ہوئے ہیں،جن میں 3000 ہزار سے زائد لوگوں کو دفن کیا گیا ہے۔ ہلاکتوں کے نتیجے میں 50 ہزار جموں کشمیر کے بچے یتیم ہوگئے ہیں۔ 40 ہزار خواتین بیوہ ہوگئی ہیں اور15 ہزار نیم بیوائیں بن گئی ہیں۔

آج بھی سینکڑوں لوگ جموں کشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں نظر بند ہیں…..میرے بھائی! کیا آپ اپنے بھائی کے درد کو محسوس کرینگے؟ ایک انسان ہونے کے ناطے اپنے انسانی بھائی کی مدد کریں گے؟ امید ہے آپ ضرور ایسا کرینگے…..آپ میرے درد کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیر کرسکتے ہیں۔ میری مشکلات کو بھارت اور جموں کشمیر سے باہر تک پہنچا سکتے ہیں اور میری جائز مانگ کے حق میں انصاف پسند لوگوں کی حمایت جتاسکتے ہیں…..یہ آپ لوگوں کا انسانی، سماجی اور اخلاقی فرض بھی ہے۔

Back to top button