بسم اللہ الرحمن الرحیم

جموں و کشمیر

جنوبی ایشیا میں امن کا قیام ہمیشہ ایک پیچیدہ مسئلہ رہا ہے، جبکہ کشمیر کا تنازعہ مرکزی اہمیت رکھتا ہے؛ پیر عبدالصمد انقلابی

کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے سرینگر سے جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن کا قیام ہمیشہ سے ایک پیچیدہ مسئلہ رہا ہے، جس میں کشمیر کا تنازع مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔

امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی کا یہ واضح موقف ہے کہ جب تک جموں کشمیر کے عوام کو ان کا حقِ خودارادیت نہیں مل جاتا، خطے میں پائیدار امن ایک خواب ہی رہے گا۔ مسئلہ کشمیر کو محض سرحدی تنازع کے بجائے وہاں کے عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا فقدان اور گہرا عدم اعتماد امن کے لیے بڑا چیلنج ہے۔

سئنئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی کہا کہ بھارت کا جموں کشمیر میں کیے گئے 5 اگست 2019 کے اقدامات (آرٹیکل 370 کا خاتمہ) نے مذاکرات کی گنجائش کو مزید کم کر دیا ہے اور کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔5 اگست 2019 کے بعد کے اقدامات (آرٹیکل 370 کا خاتمہ) کو کشمیر کی آبادیاتی ساخت میں تبدیلی کی کوشش قرار دے کر مسترد کرتی ہے، جسے وہ امن کے لیے خطرہ مانتے ہیں۔

سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے جموں کشمیر میں جاری "جبر” اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری اور "جعلی مقابلوں” نے معمول کی زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔

سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ "سہ فریقی مذاکرات” (پاکستان، بھارت اور کشمیری حریت پسند قیادت) سے ہو کر گزرتا ہے۔ جب تک کشمیریوں کو بنیادی فریق تسلیم کر کے ان کی مرضی کے مطابق حل تلاش نہیں کیا جائے گا، خطہ عدم استحکام کا شکار رہے گا

کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما پیر عبدالصمد انقلابی کا مؤقف ہے کہ امن کی بحالی کے لیے عسکری اقدامات کی بجائے سیاسی مذاکرات اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کی ضرورت ہے۔ وہ اکثر اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ کشمیر کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستی کا پل بننا چاہیے، نہ کہ جھگڑے کی جڑ۔انہوں نے کہا کہ 2025ء کے پہلگام حملے جیسے واقعات کے بعد سیکیورٹی کی صورتحال سخت ہوئی ہے، جس سے امن مذاکرات مذید مشکل ہو گئے ہیں۔حریت رہنماوں کے نزدیک جنوبی ایشیا کا امن کشمیر کے مسئلے کے "منصفانہ” حل سے براہِ راست وابستہ ہے، جبکہ موجودہ صورتحال میں انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں کا فقدان امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ

کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما پیر عبدالصمد انقلابی اکثر یہ گلہ کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں اپنے معاشی مفادات کی خاطر کشمیر میں جاری انسانی بحران اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں پر خاموش ہیں۔ عالمی برادری کی یہ بے حسی تنازع کو طول دے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اندرونی سیاسی عوامل دونوں ممالک میں قوم پرستی کی سیاست اور انتخابی مفادات کے لیے کشمیر کارڈ کا استعمال بھی امن کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ خاص طور پر بھارت میں ہندوتوا نظریات کے فروغ نے کشمیریوں کے لیے سیاسی حل کی راہیں مزید مشکل بنا دی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button