
شہید علی گیلانی کا نعرہ ”ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے‘‘ ہمارے لئے مشعل راہ ہے – پیر عبدالصمد انقلابی
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے سربراہ محبوس پیر عبدالصمد انقلابی کی ساری زندگی جدوجہد سے تعبیر ہے۔ آزادی اور حق خود ارادیت کی جدوجہد میں عمر کا زیادہ حصہ بھارتی جیلوں میں گزارا ہے۔ بھارت نے سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی کی آزادی کی آواز دبانے کے لئے ظلم و جبر کے تمام ہتھکنڈے آزمائے لیکن وہ اس کے عزم و حوصلے کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
محبوس پیرعبدالصمد انقلابی ہمیشہ سے یہ کہتے چلے آ رہے ہیں کہ بھارت مکر و فریب کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے اور اول روز سے بھارت مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تضادات اور دو عملی کی پالیسی پر چل رہا ہے۔ محبوس پیر عبدالصمد انقلابی کا موقف کہ جب تک بھارت کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم نہیں کرتا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے آمادہ نہیں ہوتا اس وقت تک بھارت سے کسی طرح کے مذاکرات کا ر لاحاصل ہیں۔کشمیری بھارت کے غاصبانہ قبضے سے آزادی چاہتے ہیں۔ جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق ،یعنی حق خودارادیت نہیں دیا جاتا اس وقت تک کشمیریوں کی آزادی کی تحریک جاری رہے گی۔اور پوری دُنیا کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے محبوس پیر عبدالصمد انقلابی کا موقف ہی پوری کشمیری قوم کا موقف ہے جن تحریکوں کے پیچھے کوئی نظریہ نہیں ہوتا ،وہ تحریکیں کامیاب نہیں ہوتیں ۔کشمیر کی آزادی کی تحریک ایک نظریے کے تحت کام کررہی ہے۔ یہ نظریہ الحاق مملکت خداداد پاکستان ہے۔ اسی نظرئیے کو بنیاد بنا کرجموں کشمیر میں تاریخ کا عظیم جہاد برپا ہے۔ آج تک لاکھوں شہداء نے اپنا لہو آزادی کے لئے پیش کیا ہے۔ ہزاروں لو گ اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے ہیں۔ ہزاروں زخمی اور معذوری کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ہزاروں پس دیوار زنداں ہیں۔مملکت خداداد پاکستان جو کشمیریوں کا حقیقی وکیل ہے اسے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔ سفارتی سطح پر اپنے سفارت خانوں کو متحرک کرنا ہو گا۔ بھارت کے تحریک آزادی کشمیر کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے توڑ کے لئے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ بھارت بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کے لئے تحریک آزادئ کشمیر کو دہشت گردی سے تعبیر کرتا ہے اور بین الاقوامی دُنیا آنکھیں بند کر کے بھارت کے اس منفی پروپیگنڈے سے متاثر ہو رہی ہے دنیا کو معلوم ہونا چاہے کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی ،دراصل حق خودارادیت کی تحریک ہے۔ کشمیری اپنے پیدائشی حق کے لئے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو دہشت گردی سے جوڑنا سراسر ناانصافی اور ظلم ہے۔ امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کو اپنے دوہرے معیارات ختم کر کے کشمیریوں کو ان کا حق آزادی دلانے کے لئے بھارت پر دبا بڑھانا چاہئے۔
محبوس سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے بھارت کے ہر جبر پر صبر تو کیا لیکن اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے نہ ہٹے اور نہ سرنڈر کیا۔ ’ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے‘ ۔بھارت کی ہر سرکار نے تمام حربے استعمال کیے کہ کسی طرح اس توانا آواز کو دبا دیا جائے اور اس کے لیے جھوٹے مقدمے الزامات، کبھی گرفتاری تو کبھی نظربندی، لیکن کوئی دھونس کوئی دھمکی کوئی ترغیب انہیں اپنے ارادوں سے پیچھے نہ ہٹا سکی۔ 2019 میں جب بھارت نے کشمیریوں کے حق پر بڑا ڈاکہ ڈالا اور اس کی خود مختار حیثیت کو متنازع قانون سازی کے ذریعے ختم کرنے کا فیصلہ کیا تو محبوس سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے بھارت کے اس ظالمانہ فیصلے اور کالے قانون کے خلاف بھرپور آواز اُٹھائی اور ایک بار پھر کشمیریوں کے جذبات کے ترجمان بنے۔اِسی ترجمانی کی سزا میں انہیں ایک بار پھر گرفتار کر کے بھارت کے اترپردیش وارانسی سنٹرل جیل میں پابند سلاسل تنگ اور تاریک سیل میں رکھا گیا اور پھر طویل نظر بندی کی بیڑیوں میں جکڑ دیا گیا۔
محبوس سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا کہ شہید علی گیلانی کا نعرہ "ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے”ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔














