بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

دریائے سندھ کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی کسی معاہدے کو تکبر کے ذریعے معطل کیا جا سکتا ہے: بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کے جائز آبی حصے کو روکنے، موڑنے یا اس پر کنٹرول حاصل کرنے کی کسی بھی کوشش کو محض انجینئرنگ یا معمول کا معاملہ نہیں سمجھا جائے گا۔اسلام آباد میں انڈس واٹرز ٹریٹی سے متعلق سیمینار کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی کسی معاہدے کو تکبر کے ذریعے معطل کیا جا سکتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دریا کو ہتھیار میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور بچوں کی پیاس کو کسی بھی ہمسایہ ملک کی پالیسی نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے پانی کے حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مذاکرات چاہتا ہے مگر وہ قانون کے دائرے میں ہونے چاہئیں، اور پاکستان بقائے باہمی کا حامی ہے لیکن کسی بھی قسم کی اطاعت یا دباؤ قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے پانی، عوام، معاہدے، خودمختاری اور مستقبل کا ہر صورت دفاع کرے گا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پانی کو ہتھیار بنانے سے نہ صرف معاہدے کی خلاف ورزی ہو رہی ہے بلکہ اس سے جنوبی ایشیا کو سنگین اسٹریٹجک خطرات کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دریاؤں پر کسی بھی حملے کو فوجی حملہ سمجھا گیا تو پاکستان کے پاس ردعمل دینے کا حق محفوظ ہوگا۔

اشتہار

یہ بھی پڑھیے

Back to top button