
پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کی ڈوپنگ جرمانوں کی فوری وصولی کا مطالبہ، بین الاقوامی معطلی ختم کرانے پر زور
پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن (پی ڈبلیو ایل ایف) کی عبوری کمیٹی نے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن (پی او اے) اور متعلقہ سرکاری اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ سابق عہدیداروں اور ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب کھلاڑیوں سے واجب الادا جرمانے فوری طور پر وصول کیے جائیں تاکہ پاکستان کی بین الاقوامی ویٹ لفٹنگ میں حیثیت بحال ہو سکے۔
عبوری کمیٹی کی جانب سے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر و سیکریٹری اور دیگر اعلیٰ حکام کو ارسال کیے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ متعدد سابق عہدیداروں، کوچز اور کھلاڑیوں کی جانب سے اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزیوں کے باعث پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن اس وقت انٹرنیشنل ویٹ لفٹنگ فیڈریشن (IWF) کی جانب سے معطل ہے۔ فیڈریشن پر 30 ہزار امریکی ڈالر سے زائد کے جرمانے واجب الادا ہیں، جن کی ادائیگی معطلی ختم ہونے کے لیے لازمی قرار دی گئی ہے۔
خط میں کہا گیا کہ مسلسل معطلی کے باعث صاف ریکارڈ رکھنے والے پاکستانی ویٹ لفٹرز بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے حق سے محروم ہیں اور یہ صورتحال 2026 ایشین گیمز سمیت آئندہ بڑے مقابلوں میں ان کی شرکت کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
عبوری کمیٹی کے مطابق 2021 میں ڈوپنگ خلاف ورزیوں کے بعد ویٹ لفٹرز طلحہ طالب اور ابوبکر غنی سمیت دیگر افراد پر جرمانے عائد کیے گئے تھے، جو عدم ادائیگی کے باعث وقت کے ساتھ بڑھتے گئے۔ خط میں اپریل 2026 میں کورٹ آف آربیٹریشن فار اسپورٹ (CAS ADD) کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا، جس کے تحت سابق فیڈریشن عہدیداروں اور بعض کھلاڑیوں پر تاحیات اور طویل المدتی پابندیاں عائد کی گئیں۔
کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن جرمانوں کی رقم ذمہ دار افراد، سابق عہدیداروں اور سزا یافتہ کھلاڑیوں سے وصول کرے، یا فوری طور پر یہ رقم آئی ڈبلیو ایف کو ادا کرکے بعد ازاں متعلقہ افراد سے وصولی کا عمل مکمل کرے۔
خط میں یہ سفارش بھی کی گئی کہ معطل شدہ فیڈریشن سے وابستہ کھلاڑیوں اور عہدیداروں کو اس وقت تک بین الاقوامی مقابلوں کے لیے منظوری یا ایکریڈیشن نہ دی جائے جب تک ان کی مالی ذمہ داریاں پوری نہ ہو جائیں۔
عبوری کمیٹی نے مزید مطالبہ کیا کہ معطل فیڈریشن کی وابستگی ختم کی جائے، معاملے سے متعلق پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے کردار کا داخلی جائزہ لیا جائے، جبکہ پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) انٹرنیشنل ویٹ لفٹنگ فیڈریشن سے عبوری کمیٹی کی عارضی منظوری حاصل کرنے کے لیے اقدامات کرے تاکہ صاف ریکارڈ رکھنے والے کھلاڑیوں کے حقوق کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔
خط میں زور دیا گیا کہ اس مسئلے کا فوری حل پاکستان کے کھیلوں کے وقار، احتساب کے فروغ اور پاکستانی ویٹ لفٹرز کی بین الاقوامی مقابلوں میں واپسی کے لیے ناگزیر ہے۔















