
پاکستان کی امن کوششوں سے عالمی سطح پر ملک کا وقار بلند ہوا، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن کے قیام کے لیے پاکستان کی کوششوں نے عالمی سطح پر ملک کے وقار اور مثبت تشخص میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ ایک ایسا تاریخی سفارتی کارنامہ ہے جو اربوں روپے خرچ کرکے بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” (Islamabad Memorandum of Understanding) آئندہ ساٹھ روز میں ایک مستقل اور پائیدار معاہدے کی شکل اختیار کر لے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور مفاہمت کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات ختم کرنے کے لیے مخلصانہ اور انتھک کوششیں کیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ مشترکہ اعلامیہ دن رات جاری رہنے والے تفصیلی مذاکرات کے بعد حتمی شکل اختیار کر سکا، جو پاکستان کی سفارتی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔
ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے دورۂ پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران پاکستان اور ایران کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں اور ایرانی صدر کے ساتھ ملاقاتوں میں دوطرفہ روابط کو مزید وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اپوزیشن لیڈر کے نکات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے ایک بار پھر ملک کے تمام صوبوں کی یکساں ترقی کے عزم کا اعادہ کیا۔
دریں اثناء اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر کے ریمارکس پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ وہ پاکستان، مسلح افواج اور عدلیہ کے خلاف کسی بھی قسم کی تقریر کی اجازت نہیں دیں گے۔
ادھر قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت عوام کو مزید ریلیف فراہم کرنے کے لیے آئی پی پیز (آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں) کے ساتھ مذاکرات کا عمل جاری رکھے گی۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر کامیاب مذاکرات اور نظرثانی کے ذریعے مستقبل کی ادائیگیوں میں تقریباً 3.5 کھرب روپے کی بچت ممکن بنائی ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ماضی میں بھی آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات ہوئے تھے، تاہم اس وقت کوئی نمایاں پیش رفت حاصل نہیں ہو سکی تھی۔















