بسم اللہ الرحمن الرحیم

کھیل

ورلڈ کپ سے ایک اور مایوس کن واپسی: پاکستان ویمنز کرکٹ آخر کس سمت جا رہی ہے؟

پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سفر ناک آؤٹ مرحلے سے پہلے ہی اختتام پذیر ہونا کسی کے لیے حیران کن نہیں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان آج تک کسی بھی ویمنز آئی سی سی ایونٹ کے سیمی فائنل تک نہیں پہنچ سکا۔ اس مرتبہ بھی ٹیم کو آسٹریلیا، بھارت اور جنوبی افریقہ جیسے مضبوط حریفوں کے ساتھ ایک نہایت سخت گروپ میں رکھا گیا تھا، جہاں چھ ٹیموں میں سے صرف دو نے اگلے مرحلے میں جگہ بنانی تھی۔ اس لیے سیمی فائنل کی دوڑ میں شامل نہ ہونا غیر متوقع نتیجہ نہیں تھا۔

تاہم اصل تشویش ناکامی نہیں، بلکہ مسلسل جمود ہے۔ ایک ٹیم جو برسوں سے بین الاقوامی کرکٹ کھیل رہی ہو، اس سے کم از کم یہ توقع ضرور کی جاتی ہے کہ اس کی کارکردگی میں بتدریج بہتری نظر آئے گی۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان ویمنز ٹیم کی کارکردگی میں ایسی کوئی واضح پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔

نیدرلینڈز کے خلاف کامیابی اگرچہ ورلڈ کپ میں پاکستان کی پہلی جیت تھی، لیکن یہ آٹھ میچوں کے بعد حاصل ہوئی۔ 2020 کے بعد ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں یہ پاکستان کی صرف تیسری کامیابی تھی، جبکہ گزشتہ پانچ ورلڈ کپ ایڈیشنز میں قومی ٹیم ہر بار اپنے گروپ میں آخری یا آخری سے ایک درجے پر رہی۔ اس سے بھی زیادہ مایوس کن صورتحال ون ڈے ورلڈ کپ میں رہی، جہاں 2013 سے مسلسل چار ایڈیشنز میں پاکستان ٹیبل کے آخری نمبر پر رہا اور 2010 کے بعد سے 22 میں سے 21 میچ ہار چکا ہے۔

اعداد و شمار یہ واضح کرتے ہیں کہ پاکستان ویمنز کرکٹ کئی برسوں سے ایک ہی جگہ کھڑی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ٹیم آگے بڑھنے کے بجائے ترقی کے سفر میں کہیں رک گئی ہو۔ کبھی کبھار ایک آدھ اچھی کارکردگی امید ضرور جگاتی ہے، مگر اس کے بعد ٹیم دوبارہ وہیں آ کھڑی ہوتی ہے جہاں سے چلی تھی۔

اس ورلڈ کپ مہم میں سب سے زیادہ مایوسی ٹیم کے انتخاب اور انتظامی فیصلوں نے پیدا کی۔ کئی ایسے فیصلے کیے گئے جن پر اسکواڈ کے اعلان کے وقت ہی سوالات اٹھائے گئے تھے، مگر ان خدشات کو نظر انداز کر دیا گیا۔ ایرم جاوید کو بطور اسپیشلسٹ بیٹر منتخب کیا گیا، حالانکہ ان کا بین الاقوامی ریکارڈ اس فیصلے کی تائید نہیں کرتا تھا۔ چار میچوں میں وہ صرف 36 رنز بنا سکیں۔

اسی طرح عالیہ ریاض کی شمولیت بھی مسلسل تنقید کی زد میں رہی۔ نہ وہ بیٹنگ میں خاطر خواہ کردار ادا کر سکیں اور نہ ہی فیلڈنگ میں مؤثر ثابت ہوئیں، جہاں ان سے متعدد آسان کیچ بھی چھوٹ گئے۔ دوسری جانب تجربہ کار فاسٹ بولر ڈیانا بیگ کو طویل عرصے تک باہر رکھنا بھی ایک ایسا فیصلہ تھا جس نے کئی سوالات کو جنم دیا، جبکہ ان کی جگہ کھیلنے والی بولرز مطلوبہ کارکردگی نہ دکھا سکیں۔

بنگلہ دیش کے خلاف شکست شاید اس مہم کا سب سے افسوسناک لمحہ تھا۔ پاکستان ایک مضبوط پوزیشن سے اچانک دباؤ کا شکار ہوا اور 70 رنز پر صرف دو وکٹوں سے 84 رنز پر آٹھ وکٹوں تک جا پہنچا۔ اس میچ نے نہ صرف تکنیکی خامیوں بلکہ ٹیم کے اعتماد کی کمی کو بھی بے نقاب کر دیا۔

ان تمام معاملات کے درمیان ہیڈ کوچ وہاب ریاض کا کردار بھی زیر بحث رہا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں مختلف اہم ذمہ داریاں دی گئیں، مگر یہ سوال آج بھی برقرار ہے کہ آیا ان کے پاس اتنے بڑے عہدوں کے لیے مطلوبہ تجربہ موجود تھا یا نہیں۔ مردوں کی ٹیم کے چیف سلیکٹر سے لے کر خواتین کی ٹیم کے ہیڈ کوچ تک ان کی تقرریاں مسلسل بحث کا موضوع رہی ہیں، جبکہ حالیہ ناکامی کے بعد ان کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ چند سال پہلے تک پاکستان ویمنز کرکٹ کے حوالے سے امید کی ایک کرن موجود تھی۔ 2023 میں پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ٹی ٹوئنٹی سیریز میں وائٹ واش کیا اور پھر نیوزی لینڈ میں بھی تاریخی سیریز جیت کر ایشیا کی پہلی ٹیم بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ انہی دنوں فاطمہ ثنا ایک عالمی معیار کی آل راؤنڈر کے طور پر ابھر رہی تھیں، اور آج بھی انہیں دنیا کی بہترین آل راؤنڈرز میں شمار کیا جاتا ہے۔

لیکن افسوس کہ انفرادی صلاحیتیں بھی اس وقت ضائع ہوتی دکھائی دیتی ہیں جب مجموعی نظام کمزور ہو۔ فاطمہ ثنا جیسی کھلاڑی دنیا بھر کی فرنچائز لیگز میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہیں، مگر قومی ٹیم کا ماحول انہیں وہ پلیٹ فارم فراہم نہیں کر پا رہا جس کی انہیں ضرورت ہے۔

پاکستان آئندہ ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔ یہ ایک سنہری موقع ہونا چاہیے تھا کہ ٹیم کو مضبوط بنایا جائے، نئی نسل کو تیار کیا جائے اور ملک میں ویمنز کرکٹ کو فروغ دیا جائے۔ لیکن موجودہ حالات دیکھ کر یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ اگر انتظامی رویے اور منصوبہ بندی میں تبدیلی نہ آئی تو یہ ایونٹ بھی گزر جائے گا اور پاکستان ویمنز کرکٹ ایک اور مایوس کن باب اپنے نام کر لے گی۔

پاکستان ویمنز کرکٹ کو اس وقت صرف نئے کھلاڑیوں کی نہیں بلکہ ایک واضح وژن، مستقل پالیسی، میرٹ پر فیصلوں اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر ہر ورلڈ کپ کے بعد یہی سوال دہرایا جاتا رہے گا کہ آخر پاکستان ویمنز کرکٹ آگے کیوں نہیں بڑھ رہی۔

اشتہار

یہ بھی پڑھیے

Back to top button