
انڈس واٹرز ٹریٹی علاقائی امن و استحکام کے لیے اہم ہے: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ انڈس واٹرز ٹریٹی محض پانی کی تقسیم کا معاہدہ نہیں بلکہ علاقائی امن، استحکام اور تعاون کا ایک اہم ذریعہ ہے۔اسلام آباد میں انڈس واٹرز ٹریٹی سے متعلق ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشترکہ آبی وسائل کو اقوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا چاہیے اور انہیں تعاون، مذاکرات اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے تحت موجودہ اور آنے والی نسلوں کے فائدے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
اسحاق ڈار نے یاد دلایا کہ پاکستان اور بھارت نے 1960 میں عالمی بینک کی سرپرستی میں یہ معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت تین مشرقی دریا بھارت اور تین مغربی دریا پاکستان کے حصے میں آئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک پائیدار اور باریک بینی سے طے شدہ فریم ورک ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران، جنگوں اور سیاسی کشیدگی کے باوجود، یہ معاہدہ کامیابی سے برقرار رہا اور بین الاقوامی سطح پر آبی تعاون کی ایک بہترین مثال سمجھا جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اب یہ تاریخی معاہدہ اپنے سب سے بڑے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان نہ تو معاہدے میں موجود ہے اور نہ ہی بین الاقوامی قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔ پاکستان اس اقدام کو مسترد کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ یہ معاہدہ اب بھی مکمل طور پر مؤثر اور قانونی طور پر پابند ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ کوئی بھی فریق ایسے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا جس میں اس کی کوئی شق موجود نہ ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں امن کے لیے تمام دیرینہ مسائل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان کو اس کے جائز حصے کے پانی سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے خطے کے امن و سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اپنے حقوق اور مفادات کا بین الاقوامی قانون کے تحت ہر ممکن طریقے سے دفاع کرے گا۔















