بسم اللہ الرحمن الرحیم

بین الاقوامی

ہائبرڈ چاول کے موجد یوآن لونگ پھِنگ انتقال کرگئے

لاتعداد لوگوں کو بھوک سے نجات دلانے والے پہلے ہائبرڈ چاول تیار کرنے کیلئے مشہور چینی سائنسدان یوآن لونگ پھِنگ ہفتہ کے روز اعضا کی خرابی کے باعث انتقال کرگئے۔ہسپتال اور دیگر ذرائع کے مطابق چاول کے اعلی سائنسدان صوبہ ہونان کے صدرمقام چھانگ شا کے ہسپتال میں سہ پہر کوتقریبا 1بجے انتقال کرگئے

انہوں نے اہلیہ،3بیٹے اور متعدد پوتے سوگواران میں چھوڑے۔ یوآن کے آخری وقت میں خاندان کے ارکان نے ان کے پسندیدہ گانے گنگنائے۔ہفتہ کی سہ پہر کو لوگوں کا بڑا اجتماع یوآن کو الوداع کہنے کیلئے ہسپتال کے باہر جمع ہوگیا، دن 4بجے تابوت لے کر جانے والی گاڑی ہسپتال سے روانہ ہوئی تو انہوں نے ” دادا یو آن ، سکون میں رہیں” کے نعرے لگائے۔

صوبہ ہائی نان میں بیجوں کی افزائش کے مرکز میں مارچ میں تحقیق کے دوران لڑکھڑانے کے بعد یوآن کا طبی علاج کیا جا رہا تھا۔طبی عملے کاکہنا تھا کہ یوآن ہائبرڈ چاول کی بڑھوتری کے زیراثر رہے اور وہ ہسپتال میں قیام کے دوران باقاعدگی سے موسم اور درجہ حرارت کی جانچ کرتے رہے۔ان کے ڈاکٹر نے کہاکہ ان کی پہلے ہی صحت بہت کمزور تھی لیکن پھر بھی وہ اپنی چاول کی فصل کی دیکھ بھال کرتے تھے۔چینی اکیڈمی برائے انجینئرنگ کے ماہر تعلیم نے چین کو ایک حیرت انگیز کام کرنے میں مدد فراہم کی جو دنیا کی کل قابل کاشت اراضی کے9فیصد سے بھی کم حصہ کے ساتھ دنیا کی آبادی کے تقر یبا پانچویں حصہ کو خوراک مہیا کررہا ہے۔

چین کے قومی چاول ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جنرل ہو پی سانگ نے کہاکہ یوآن کی کامیابیوں کا خلاصہ کرنے کیلئے کچھ الفاظ ہی کافی ہیں "انہوں نے بھوک مٹانے میں دنیا کی مدد کی”۔1930 میں پیدا ہو نے والے یوآن 1973 میں دنیا کی ہا ئبرڈ چاول کی پہلی قسم کی کاشت کر نے میں کا میا ب ہوئے جو کہ بعد ازاں چین اور دیگر ملکوں میں بڑ ے پیما نے پر اگائی گئی اور اس کی وافر پیداوار ہو ئی۔آئندہ 4 دہائیوں میں انہوں نے ہا ئبرڈ چاو ل کو بہتر کر نے کے لئے تحقیق جا ری ر کھی جو کہ اب اپنی تیسری نسل کو پہنچ چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button