بسم اللہ الرحمن الرحیم

جموں و کشمیر

عالمی ادارہ صحت نے جموں و کشمیر کو ‘گرے زون’ قرار دیا

نیویارک(ساوتھ ایشین وائر)

ڈبلیو ایچ او کی گزشتہ ایک مہینے کی رپورٹ میں جموں و کشمیر کو ‘گرے زون’ میں رکھا گیا ہے جو عالمی سطح پر متنازعہ حیثیت کی علامت ہے۔

ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ہر روز دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر افراد کی ایک رپورٹ شائع کرتا ہے۔ اس رپورٹ میں ہر ملک سے حاصل کئے گئے اعداد و شمار پر مبنی ایک نقشہ بنایا جاتا ہے اور کیسز کی تعداد کے حساب سے ممالک کو کٹیگری میں رکھا جاتا ہے۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق موجودہ نقشے میں بھارت ریڈ زون، پاکستان اورینج اور چین یلو میں ہے، جموں و کشمیر کو گرے زون میں رکھا گیا ہے۔

ریڈ زون کا مطلب علاقہ میں 10001 سے 100000 کورونا وائرس کے کیس ہیں۔ اورینج زون کا مطلب 1001 سے 10000 کیس اور یلو کا مطلب ایک سے 100 معاملے جبکہ گرین زون کا مطلب علاقہ محفوظ ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی گزشتہ ایک مہینے کی رپورٹ میں جموں و کشمیر کو ‘گرے زون’ میں رکھا گیا ہے جو عالمی سطح پر متنازعہ حیثیت کی علامت ہے۔

جموں و کشمیر کا کچھ حصہ چین اور پاکستان کے زیر انتظام ہے۔ حال ہی میں لداخ کو جموں و کشمیر سے الگ کر کے ایک نئی یونین ٹیریٹری بنایا گیا۔ تاہم ڈبلیو ایچ او کی جانب سے بنائے گئے نقشے میں پورے جموں و کشمیر کو ایک ساتھ رکھا گیا ہے اور پورے علاقہ کو ‘گرے زون’ قرار دیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر جموں و کشمیر کو ہمیشہ سے ‘متنازعہ علاقہ’ مانا گیا ہے جس کی وجہ سے ایسے واقعات اکثر دیکھے جاتے ہیں۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق جیو پولیٹیکل صورت حال پر نظر رکھنے والے اعجاز ایوب کا کہنا ہے کہ ‘یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا ایسا ہوتا رہے گا۔

حال ہی میں بھارت کے سابق سفیر گوتم بمباولے نے ڈبلیو ایچ او کے ایک نقشے پر اعتراض جتایا تھا۔ ‘ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘بین الاقوامی سطح پر جموں وکشمیر ہمیشہ سے متنازعہ علاقہ مانا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے اکثر غیر ملکی ادارے بین الاقوامی پیمانے کے تحت جموں و کشمیر کو نقشے میں شامل کرتے ہیں۔’

چند روز قبل انڈیا میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ نے اپنے موسم کی صورتحال میں مظفرآباد، میرپور، گلگت اور بلتستان کو بھی شامل کر دیا۔ یہ علاقہ اس وقت پاکستان کے زیر انتظام ہے۔ گزشتہ شب دوردرشن اور آل انڈیا ریڈیو پر پاکستان زیر انتظام کشمیر کے علاقوں کی موسم کی صورتحال نشر کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button