بسم اللہ الرحمن الرحیم

تجارت

معیشت چیلنجز کے باوجود رواں مالی سال میں مستحکم رہی، وزیرخزانہ

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت اندرونی اور بیرونی مسائل کے باوجود رواں مالی سال کے دوران مستحکم رہی اور مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو تین اعشاریہ سات فیصد ریکارڈ کی گئی۔

انہوں نے آج اسلام آباد میں رواں مالی سال کا اقتصادی سروے جاری کرتے ہوئے ملک کی اقتصادی کارکردگی کا جامع جائزہ پیش کیا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ تین اعشاریہ سات فیصد کی شرح نمو گزشتہ چار برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کا معاشی حجم ایک سو چھبیس اعشاریہ نو ٹریلین روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔

اقتصادی سروے کے اہم اعدادوشمار بتاتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ فی کس آمدن گزشتہ سال کے ایک ہزار سات سو اکاون ڈالر کے مقابلے میں ایک ہزار نو سو ایک ڈالر تک پہنچ گئی۔

شعبہ جاتی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ سیلاب کے باوجود زراعت کے شعبے میں دو اعشاریہ آٹھ نو فیصد اور صنعت میں تین اعشاریہ پانچ ایک فیصد کی شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ میں چھ اعشاریہ ایک فیصد کی نمو دیکھی گئی جو گزشتہ چار برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مینوفیکچرنگ کے بائیس میں سے سولہ شعبوں میں مثبت ترقی دیکھی گئی۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ خدمات ہمیشہ مضبوط شعبہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبے میں چار اعشاریہ نو فیصد کی نمو دیکھی گئی جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح بھی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر بتایا کہ اطلاعات اور مواصلاتی خدمات میں سات اعشاریہ پانچ دو فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

برآمدی شعبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی ٹی کی برآمدات تین ارب اسی کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر سترہ ارب دس کروڑ ڈالر کی سطح پر ہیں اور توقع ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک یہ اٹھارہ ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔

محمد اورنگزیب نے مختلف شعبوں میں طلب میں اضافے کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ سیمنٹ میں دس فیصد، کھاد میں سترہ فیصد، پٹرولیم مصنوعات میں پانچ فیصد اور موبائل فونز کی مانگ میں نو فیصد اضافہ ہوا ہے۔

نجی شعبے کے قرضے کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ تقریبا نو سو چونتیس ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جو بائیس فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی قرضوں میں پندرہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سستی ہاؤسنگ سکیم کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ گیارہ ارب روپے تقسیم کئے گئے ہیں، جبکہ نوے ارب روپے کی منظوری دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شرح خواندگی بڑھ کر تریسٹھ فیصد ہو گئی ہے جبکہ سکول نہ جانے والے بچوں کا تناسب کم ہو کر اٹھائیس فیصد رہ گیا ہے۔

صحت کے شعبے کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ بچوں کی اموات کی شرح ایک ہزار پیدائشوں میں ساٹھ سے کم ہو کر سنتالیس ہو گئی ہے، جبکہ تہتر فیصد بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے گئے ہیں۔

اشتہار

یہ بھی پڑھیے

Back to top button