
48 فیصد مسافر اپنی ذاتی حساس معلومات اے آئی کے ساتھ شیئر کرنے سے گریزاں: کیسپرسکی سروے
کیسپرسکی کی تازہ ترین تحقیق کے مطابق مصنوعی ذہانت کو مسافر وقت بچانے، ذاتی پسند کے مطابق مشورے حاصل کرنے اور کم لاگت والے سفری مواقع تلاش کرنے کے لیے بے حد مفید سمجھتے ہیں۔ تاہم، صارفین میں ڈیٹا سیکیورٹی کے خطرات سے متعلق آگاہی بھی نمایاں ہے، جسے سائبر سیکیورٹی ماہرین ایک مثبت رجحان قرار دیتے ہیں۔
کیسپرسکی کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ سفر کی منصوبہ بندی کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کی سب سے بڑی وجہ وقت کی بچت اور تیاری کے عمل کو آسان بنانا ہے، جس کا اظہار 73 فیصد صارفین نے کیا۔ اس کے علاوہ 65 فیصد افراد نے بتایا کہ وہ منتخب مقام کے اہم سیاحتی مقامات سے متعلق معلومات حاصل کرنے اور اپنی ذاتی ترجیحات کے مطابق سفارشات کے لیے مصنوعی ذہانت سے مدد لیتے ہیں۔ مزید برآں، 63 فیصد صارفین بہترین اور کم قیمت سفری آفرز تلاش کرنے کے لیے اے آئی کا استعمال کرتے ہیں، جبکہ 61 فیصد کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت ایسی معلومات فراہم کرتا ہے جنہیں روایتی طریقوں سے تلاش کرنا مشکل ہوتا ہے۔
تقریباً نصف (48 فیصد) جواب دہندگان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال میں سیکیورٹی کے خطرات موجود ہیں، اسی لیے وہ اس کے ساتھ کوئی بھی حساس معلومات شیئر کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ 37 فیصد ایسے صارفین بھی ہیں جو اگرچہ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے زیادہ سیکیورٹی خدشات نہیں رکھتے، لیکن پھر بھی احتیاط سے کام لیتے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر سفر کی منصوبہ بندی کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والے 86 فیصد افراد ان ٹولز کے استعمال کے دوران ڈیٹا سیکیورٹی کو اہمیت دیتے ہیں۔ صرف 14 فیصد مسافروں کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ساتھ ہر قسم کی معلومات شیئر کرنا مکمل طور پر محفوظ ہے۔
کیسپرسکی مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی ریسرچ سینٹر کے گروپ مینیجر ولادیسلاو تُشکانوف کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ساتھ ہونے والی آپ کی ‘نجی’ گفتگو بھی سائبر خطرات کی زد میں آ سکتی ہے، یا چیٹ بوٹ کی تجویز کردہ کوئی پرکشش آفر دراصل ایک دھوکہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ان ڈیجیٹل ٹولز کا استعمال ترک کر دیں، بلکہ ضروری ہے کہ ذاتی معلومات غیر ضروری طور پر شیئر نہ کریں اور ہر بار غور کریں کہ کون سا کام مصنوعی ذہانت کے سپرد کرنا مناسب ہوگا۔ اس طرح اے آئی پر مبنی خدمات محفوظ اور مؤثر انداز میں آپ کی مختلف ضروریات پوری کرنے والی قابلِ اعتماد معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔”
کیسپرسکی صارفین کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ شناختی دستاویزات، گھر کا پتہ، پاس ورڈز یا دیگر حساس معلومات اے آئی معاونین کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ ایسی معلومات صرف انتہائی قابلِ اعتماد پلیٹ فارمز پر ہی فراہم کریں۔ مشتبہ ویب سائٹس کو بلاک کرنے اور آن لائن ادائیگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے کاسپرسکی پریمیئم جیسے معتبر سیکیورٹی حل کا استعمال کریں۔ اگر آپ اے آئی کو اپنا بنیادی سفری معاون بنانا چاہتے ہیں تو بیرونِ ملک قیام کے دوران مستحکم انٹرنیٹ کنکشن یقینی بنائیں۔ مسلسل موبائل ڈیٹا تک رسائی کے لیے کاسپرسکی ای سم اسٹور سے ای سم استعمال کرنے پر بھی غور کریں۔















