
وفاقی وزیر احسن اقبال کی شمالی کیلیفورنیا میں سلیکون ویلی کی قیادت سے ملاقاتیں، مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اپنے دورۂ شمالی کیلیفورنیا کے دوران پاکستانی برادری کے اعزاز میں منعقدہ تعارفی ناشتے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر "پاکستان سب سے مقدم” کے قومی پیغام کو اپنا شعار بنائیں اور ملک کی معاشی ترقی و خوشحالی میں بھرپور کردار ادا کریں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی پائیدار ترقی اور معاشی خودمختاری کا انحصار برآمدات، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کی ترقی پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا اُڑان پاکستان پروگرام ملک کو علم پر مبنی، ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ اور پائیدار معیشت میں تبدیل کرنے کے لیے ایک جامع قومی حکمتِ عملی ہے، جس کے تحت 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت اور برآمدات کو 100 ارب ڈالر سے تجاوز تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی برآمدات کے سفیر بن کر سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، کاروباری روابط اور عالمی منڈیوں تک رسائی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، لہٰذا پاکستانی نژاد امریکی برادری دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک مضبوط پل ثابت ہو سکتی ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ای پاکستان حکومت کی قومی ترجیحات میں سرفہرست ہے اور مصنوعی ذہانت پاکستان کے لیے ایک تاریخی موقع فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، عظیم ڈیٹا، روبوٹکس، جینومکس اور کوانٹم کمپیوٹنگ کے قومی مراکزِ امتیاز قائم کر رہی ہے تاکہ پاکستان کو مستقبل کی معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔ انہوں نے امریکہ۔پاکستان نالج کوریڈور کا بھی ذکر کیا، جس کے ذریعے عالمی معیار کی جامعات کے تعاون سے اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل انسانی وسائل تیار کیے جا رہے ہیں۔
تقریب کے دوران شرکاء کے ساتھ تفصیلی تبادلۂ خیال میں پاکستان کے جدید ایکو سسٹم اور ٹیکنالوجی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے متعدد تجاویز پیش کی گئیں۔ ان میں پاکستانی قونصل خانوں کو برآمدات، تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی تعاون کے مراکز کے طور پر فعال بنانا، سلیکون ویلی میں مقیم پاکستانی ماہرین پر مشتمل مشاورتی گروپ قائم کرنا تاکہ مصنوعی ذہانت، نصاب میں اصلاحات اور نوجوانوں کی ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ میں معاونت فراہم کی جا سکے، سلیکون ویلی کے ماہرین اور پاکستان کے قومی اختراعی مراکز کے درمیان شراکت داری قائم کرنا، اور عالمی شہرت یافتہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پاکستان میں تحقیق و ترقی کے مراکز قائم کرنے کی ترغیب دینا شامل تھا تاکہ پاکستانی انجینئرز کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے ان تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اپنی حالیہ سفارتی کامیابیوں کو معاشی تعاون، ٹیکنالوجی شراکت داری اور اختراع پر مبنی ترقی میں تبدیل کرنا ہوگا۔
دورے کے دوران وفاقی وزیر نے سلیکون ویلی کے معروف ادارے پلگ اینڈ پلے ٹیک سینٹر کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سعید امیدی سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان کے ابھرتے ہوئے کاروباری اداروں اور اختراعی نظام کو عالمی سطح سے جوڑنے کے امکانات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ملاقات میں پلگ اینڈ پلے ٹیک سینٹر نے پاکستان کی دس نمایاں جامعات سے ابتدائی مرحلے میں 300 نئے کاروباری منصوبوں کی رہنمائی اور معاونت، پاکستانی کاروباری اداروں کو دنیا بھر کی 600 سے زائد بڑی کمپنیوں سے منسلک کرنے، سرمایہ کاری کے حصول، عالمی منڈیوں تک رسائی اور مصنوعات کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے میں تعاون کی پیشکش کی۔ ادارے نے اسلام آباد اور کراچی میں اپنے دفاتر قائم کرنے کے لیے اظہارِ دلچسپی کا خط ارسال کرنے کی پیشکش بھی کی اور ترکیہ، سعودی عرب، اٹلی، جرمنی اور دیگر ممالک میں اپنے کامیاب شراکت داری ماڈلز سے آگاہ کیا۔
وفاقی وزیر نے اس پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے ادارے سے اظہارِ دلچسپی کا خط اور مجوزہ تعاون کی تفصیلات ارسال کرنے کی درخواست کی تاکہ پلگ اینڈ پلے ٹیک سینٹر کے اعلیٰ سطحی وفد کا دورۂ پاکستان ترتیب دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان اور باصلاحیت افرادی قوت، کم لاگت پر دستیاب اعلیٰ معیار کے انجینئرز اور حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل اور معلوماتی ٹیکنالوجی کی مہارتوں میں مسلسل سرمایہ کاری پاکستان کو عالمی سرمایہ کاروں اور نجی اداروں کے لیے ایک پرکشش منزل بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے پاکستان کا تیزی سے فروغ پاتا کاروباری اور اختراعی نظام خطے میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔
شمالی کیلیفورنیا میں اپنے دیگر مصروفیات کے دوران وفاقی وزیر نے مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ سلیکون ویلی کے ممتاز ماہرین سے بھی ملاقات کی اور پاکستانی نژاد امریکی برادری کی جانب سے دیے گئے عشائیے میں شرکت کی۔ ان ملاقاتوں میں مصنوعی ذہانت، کاروباری مواقع، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ شمالی کیلیفورنیا میں مقیم پاکستانی برادری نے سرمایہ کاری، علم، تجربے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کی معاشی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور "پاکستان سب سے مقدم” کے قومی پیغام کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اُڑان پاکستان کے قومی مشن میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔















