
اقوام متحدہ میں پاکستان کا جنگی جرائم کی روک تھام کے لیے عالمی کوششیں مضبوط بنانے پر زور
پاکستان نے جنگی جرائم، نسل کشی، نسلی تطہیر اور انسانیت کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لیے عالمی برادری کی مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ طویل تنازعات اور غیر ملکی قبضے والے علاقوں میں مظالم کا تسلسل "تحفظ کی ذمہ داری” (Responsibility to Protect – R2P) کے فریم ورک کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں "تحفظ کی ذمہ داری اور نسل کشی، جنگی جرائم، نسلی تطہیر اور انسانیت کے خلاف جرائم کی روک تھام” سے متعلق مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ "دوبارہ کبھی نہیں” (Never Again) کا وعدہ آج بھی پورا نہیں ہو سکا، کیونکہ بڑے پیمانے پر ہونے والے مظالم کے متاثرین کو نہ تحفظ ملا، نہ ذمہ داروں کا احتساب ہوا اور نہ ہی انصاف فراہم کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ نسل کشی، جنگی جرائم، نسلی تطہیر اور انسانیت کے خلاف جرائم دنیا کے سنگین ترین جرائم میں شمار ہوتے ہیں، جبکہ تحفظ کی ذمہ داری (R2P) کا تصور 2005 کے عالمی سربراہی اجلاس میں اسی مقصد کے لیے متعارف کرایا گیا تھا تاکہ ایسے مظالم کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے زور دیا کہ اگر تحفظ کی ذمہ داری کے اصول کو اپنی ساکھ برقرار رکھنی ہے تو اس پر دوہرے معیار کے بغیر، یکساں، مستقل اور اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جانا چاہیے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ عالمی برادری کو تنازعات کی بروقت نشاندہی، امن مشنز، امن سازی اور احتیاطی اقدامات پر زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے تاکہ بڑے انسانی المیوں کو روکا جا سکے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود طویل المدتی تنازعات اور دیرینہ مسائل کو متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرے۔















