
وزیر قانون کا بدلتے قانونی تقاضوں سے نمٹنے کے لیے خصوصی عدالتی تربیت پر زور
وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ تیزی سے ترقی کرتی ٹیکنالوجی، بدلتے تجارتی رجحانات اور معاشرتی ضروریات کے پیشِ نظر نئے قانونی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ججز کی خصوصی عدالتی تربیت ناگزیر ہو چکی ہے۔
وہ اسلام آباد میں ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لا اور سندھ جوڈیشل اکیڈمی کے اشتراک سے جاری کراس پروونشل جوڈیشل فیلوشپ پروگرام میں شریک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کے وفد سے خطاب کر رہے تھے۔
وزیر قانون نے کہا کہ عدلیہ کے لیے ٹیکنالوجی لا، تجارتی تنازعات (کمرشل ڈسپیوٹس) اور متبادل تنازعاتی حل (Alternative Dispute Resolution – ADR) جیسے شعبوں میں مہارت حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے عدالتی صلاحیتوں میں اضافے اور قانونی اصلاحات کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر کے استعداد کار بڑھانے کے پروگراموں سے اب تک تقریباً 1,400 ججز، وکلا، سرکاری افسران، ماہرین تعلیم اور دیگر پیشہ ور افراد مستفید ہو چکے ہیں۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ حکومت ضابطہ فوجداری (Code of Criminal Procedure) کا جامع جائزہ لے رہی ہے، جس کے تحت پاکستان کے فوجداری نظامِ انصاف کو جدید بنانے اور مقدمات کے جلد اور مؤثر فیصلوں کو یقینی بنانے کے لیے 100 سے زائد ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔















