بسم اللہ الرحمن الرحیم

تجارت

پاکستان اور ترکیہ کا دوطرفہ تجارت کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ

وزیراعظم شہباز شریف نے ترکیہ کے ساتھ پاکستان کی دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کا حجم 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کے ہدف پر اپنی بھرپور وابستگی کا اظہار کیا ہے۔

استنبول میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات صدیوں پر محیط مشترکہ تاریخ، مشترکہ عقیدے، باہمی قربانیوں اور لازوال برادرانہ رشتے پر استوار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا، خواہ جنگوں کا وقت ہو، زلزلے ہوں یا تباہ کن سیلاب، ترک عوام اور قیادت ہمیشہ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔

وزیراعظم نے صدر اردوان کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی دوراندیش قیادت میں ترکیہ نے معاشی، تکنیکی اور اسٹریٹجک شعبوں میں نمایاں ترقی حاصل کی ہے۔

شہباز شریف نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں تفصیلی اور نتیجہ خیز مذاکرات ہوئے، جن میں دوطرفہ تجارت کو 5 ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

علاقائی امن کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad Memorandum of Understanding) اس مشترکہ یقین کی عکاسی کرتی ہے کہ تنازعات کے پائیدار حل اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔

انہوں نے شمالی قبرص کے ترک جمہوریہ کے معاملے پر ترکیہ کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے ترکیہ کی مستقل حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا۔

دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان نے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی عوام کو ثالثی کے عمل میں کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے ذریعے امن کے قیام سے پوری دنیا نے اطمینان کا سانس لیا۔

صدر اردوان نے معاہدے کو نقصان پہنچانے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا اور غزہ پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کی شدید مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا، جبکہ کراچی میں ترک سرمایہ کاروں کے لیے خصوصی اقتصادی زون کے قیام پر کام جاری ہے اور دوطرفہ تجارت میں اضافے کے لیے بھی مذاکرات جاری ہیں۔

ترک صدر نے مزید کہا کہ دفاعی تعاون دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کا اہم ستون ہے، جبکہ توانائی، ٹرانسپورٹ، اہم معدنیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

اشتہار

یہ بھی پڑھیے

Back to top button