
پاکستان میں ہائیڈروکاربن شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، وزیرِ پیٹرولیم
وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان ہائیڈروکاربن کے وسیع قدرتی ذخائر کا حامل ملک ہے، جن کا بڑا حصہ اب بھی دریافت اور استعمال کا منتظر ہے، جس کے باعث سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔
وہ استنبول میں منعقدہ پاکستان-ترکیہ بزنس ٹو بزنس (B2B) کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز سمیت بڑی تعداد میں ترک سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔
وزیرِ پیٹرولیم نے بتایا کہ پاکستان کے قابلِ حصول گیس ذخائر کا تخمینہ 23 ٹریلین کیوبک فٹ (Tcf) ہے، تاہم یہ مجموعی صلاحیت کا صرف ایک ابتدائی حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں یومیہ تقریباً 3 ارب کیوبک فٹ گیس پیدا ہو رہی ہے، جبکہ طلب 4 ارب کیوبک فٹ یومیہ تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پاکستان کو ہر سال تقریباً 4 ارب ڈالر مالیت کی ایل این جی (LNG) درآمد کرنا پڑتی ہے۔
علی پرویز ملک نے بتایا کہ پاکستان کے تیل کے ذخائر کا تخمینہ 24 کروڑ بیرل ہے، جبکہ یومیہ تیل کی پیداوار تقریباً 65 ہزار بیرل ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے پاکستان کی معیشت ترقی کرے گی، توانائی کی طلب میں مزید اضافہ ہوگا، جس سے ہائیڈروکاربن اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیرِ پیٹرولیم کے مطابق اس وقت پاکستان میں 178 سے زائد فعال ایکسپلوریشن لائسنسز موجود ہیں، جبکہ حیدرآباد میں ملک کا پہلا عمودی (Vertical) کنواں بھی کامیابی سے کھودا جا چکا ہے، جس سے نئے ذخائر کی دریافت کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس شعبے میں ترکیہ سے بالخصوص فیلڈ سروسز اور مڈ اسٹریم سیکٹر میں تکنیکی تعاون کا خواہاں ہے۔
علی پرویز ملک نے مزید بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی پر جلد عمل درآمد کی ہدایت دی ہے، جبکہ عالمی معیار کی بانڈڈ اسٹوریج سہولت قائم کرنے کا منصوبہ بھی زیرِ عمل ہے تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی محفوظ ذخیرہ اندوزی اور متبادل سپلائی کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے بڑے تانبے اور سونے کے منصوبوں میں سے ایک پر بھی کام کر رہا ہے، جس سے 2030 کے قریب تجارتی پیداوار شروع ہونے کی توقع ہے، جبکہ اس منصوبے کے اطراف موجود کئی دیگر بلاکس بھی مشترکہ سرمایہ کاری اور معدنی تلاش کے لیے دستیاب ہیں۔















