
وزیراعظم کا پاکستان-ترکیہ کے درمیان ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (ICT) کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان پاکستان-ترکیہ ڈیجیٹل کوریڈور کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔
وزیراعظم نے یہ بات استنبول میں ترکیہ کی معروف ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ترک سیل (Turkcell) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی طحہ کوچ سے ملاقات کے دوران کہی۔
ملاقات میں وزیراعظم نے حکومت کے اس وژن سے آگاہ کیا کہ پاکستان-ترکیہ ڈیجیٹل کوریڈور کے قیام سے خطے میں ڈیجیٹل رابطوں کو فروغ ملے گا، سرحد پار محفوظ ڈیٹا کے تبادلے میں آسانی ہوگی اور جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید مربوط بنایا جا سکے گا۔
وزیراعظم نے پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ڈیجیٹل شعبے کا ذکر کرتے ہوئے ترک سیل کو دعوت دی کہ وہ فائیو جی (5G) ٹیکنالوجی، نیٹ ورک آپٹیمائزیشن، اسپیکٹرم مینجمنٹ، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کی منتقلی جیسے شعبوں میں پاکستانی اداروں کے ساتھ طویل المدتی تعاون کا آغاز کرے۔
شہباز شریف نے کمپنی کو ٹیلی کمیونیکیشن آلات کی مقامی تیاری، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ اور افرادی قوت کی استعداد بڑھانے کے منصوبوں میں بھی شراکت داری کی دعوت دی۔
انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کا تعاون پاکستان کے ٹیکنالوجی کے شعبے کو مزید مضبوط کرے گا، جبکہ اختراع، روزگار کے نئے مواقع اور پائیدار معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
وزیراعظم نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو شفاف، مستحکم اور کاروبار دوست ماحول فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اعلیٰ قدر کے شعبوں، بالخصوص انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے بھرپور معاونت فراہم کر رہی ہے۔
اس موقع پر ترک سیل کے سی ای او علی طحہ کوچ نے پاکستان کے ڈیجیٹل تبدیلی کے وژن کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کمپنی پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے مواقع کا جائزہ لینے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ترک سیل متعلقہ پاکستانی اداروں کے ساتھ مل کر ایسے مشترکہ منصوبے تشکیل دے گی جو پاکستان اور ترکیہ کے مشترکہ معاشی اور تکنیکی اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوں۔















