
ڈھاکا ٹیسٹ: نوآموز اذان اویس کی شاندار سنچری
پاکستان کے نوآموز بلے باز اذان اویس نے اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں یادگار سنچری اسکور کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے تیسرے روز پاکستان کی بیٹنگ کو سہارا دیا۔
ڈھاکا کے شیرِ بنگلہ قومی اسٹیڈیم میں اتوار کو کھیلے جا رہے میچ میں پاکستان نے تیسرے دن کا آغاز ایک وکٹ پر 179 رنز سے کیا، بنگلہ دیش کے 413 رنز کے جواب میں پوری ٹیم 386 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ یوں میزبان ٹیم کو پہلی اننگز میں 27 رنز کی برتری حاصل ہوئی۔
کھیل ختم ہونے تک بنگلہ دیش نے دوسری اننگز میں بغیر کسی نقصان کے 7 رنز بنا لیے تھے، تاہم خراب روشنی کے باعث کھیل وقت سے پہلے ختم کرنا پڑا۔
تیسرے دن کی نمایاں کارکردگی 21 سالہ اذان اویس کے نام رہی، جنہوں نے اپنے پہلے ٹیسٹ میچ میں شاندار اعتماد، صبر اور بہترین تکنیک کا مظاہرہ کیا۔ بائیں ہاتھ کے بلے باز نے رات کے 85 رنز کو سنچری میں تبدیل کیا اور 153 گیندوں پر 14 چوکوں کی مدد سے تین ہندسوں تک پہنچے۔
وہ پاکستان کی جانب سے اپنے پہلے ٹیسٹ میچ میں سنچری بنانے والے 14ویں بلے باز بن گئے۔
اذان اویس نے 103 رنز کی عمدہ اننگز کھیلتے ہوئے ایک اور نوآموز کھلاڑی عبداللہ فضل کے ساتھ دوسری وکٹ کی شراکت میں 104 رنز جوڑے۔ عبداللہ فضل نے بھی ذمہ دارانہ کھیل پیش کرتے ہوئے 60 رنز بنائے۔
اذان اویس کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستان کی ٹیم 210 رنز پر دو کھلاڑی آؤٹ سے 230 رنز پر پانچ وکٹوں تک محدود ہوگئی، تاہم کپتان سلمان علی آغا اور محمد رضوان نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کو سہارا دیا۔
دونوں بلے بازوں نے چھٹی وکٹ کی شراکت میں 123 رنز جوڑے۔ سلمان علی آغا نے 94 گیندوں پر 58 رنز بنائے جس میں چھ چوکے اور ایک چھکا شامل تھا، جبکہ محمد رضوان نے 79 گیندوں پر 59 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی اور آٹھ چوکے لگائے۔
خراب موسم اور اندھیرے کے باعث چائے کا وقفہ جلدی کرنا پڑا جبکہ بعد ازاں بارش نے کھیل مزید متاثر کیا۔ کھیل دوبارہ شروع ہونے پر بنگلہ دیش نے پاکستان کی باقی وکٹیں جلد حاصل کرلیں۔
بنگلہ دیش کی جانب سے مہدی حسن میراض نے پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ تیج الاسلام نے دو وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستان کی جانب سے دوسری اننگز میں شاہین شاہ آفریدی اور محمد عباس نے نئی گیند سے بولنگ کا آغاز کیا، مگر روشنی کم ہونے کے باعث امپائروں نے کھیل جلد ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ بنگلہ دیش کو مجموعی طور پر 34 رنز کی برتری حاصل ہے۔















