
بجلی کی قیمت پرٹیکس اضافے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں،وزیر توانائی
وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے بجلی کی قیمت پر ٹیکس میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
انہوں نے یہ بات آج شام اسلام آباد میں صحافیوں کو توانائی کے شعبے سے متعلق اہم امور اور اس میں اصلاحات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ماہانہ دوسویونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو فراہم کی جانے والی سبسڈی میں شفافیت یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ ان صارفین کی تعداد دوکروڑ پندرہ لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان تمام صارفین کو ایک QR کوڈ کے ذریعے منسلک کیا جا رہا ہے تاکہ صرف حقیقی مستحق افراد ہی یہ سبسڈی حاصل کر سکیں اور اس بچت کو باقی صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
وزیرتوانائی نے واضح کیا کہ حکومت پروٹیکٹڈ صارفین کیلئے اعانت ختم نہیں کر رہی۔
انہوں نے کہا کہ اب تک 20 لاکھ افراد نے بلوں میں فراہم کردہ QR کوڈز کے ذریعے اپنے بجلی کے میٹروں کو اپنے شناختی کارڈز سے منسلک کر کے خود کو رجسٹر کرایا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاقی بجٹ پر پاور ڈویژن کا بوجھ 457 ارب روپے کم ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں 780 ارب روپے کا گردشی قرضہ کم ہوا ہے۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ شمسی توانائی کی حوصلہ شکنی نہیں کی جا رہی ہے بلکہ اسے بنیادی طور پر بجلی کی پیداوار کے اثاثے کے طور پر بہتربنایا جا رہا ہےانہوں نے کہا کہ پاکستان 55 فیصد صاف اور ماحول دوست توانائی پیدا کر رہا ہے اور 2035 تک پاکستان کی صاف توانائی کی پیداوار نوے فیصد ہو جائے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بجلی کا شعبہ اپنے شکایات کے ازالے کے نظام کو بھی بہتر بنا رہا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ اس سال موصول ہونے والی اکسٹھ لاکھ شکایات میں سے چھیالیس لاکھ کو بروقت حل کیا گیا۔















