بسم اللہ الرحمن الرحیم

تعلیم

پاکستانی طالبہ چین سے ماحولیاتی نظم و نسق کی حاصل کردہ تعلیم آبائی شہر میں بروئے کار لانے کے لئے پر عزم

تیانجن یونیورسٹی کے سکول آف آرکیٹیکچر کی لیبارٹری میں اسما بی بی اپنی “کلائمیٹ-مینٹل ہیلتھ-کمیونٹی” پر مبنی سہ جہتی صلاحیت کے ماڈل کو بہتر بنانے پر پوری توجہ کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ ایک عملی اور سائنسی فریم ورک کے ذریعے وہ امید رکھتی ہیں کہ پاکستان میں موسمیاتی آفات سے متاثرہ کمیونٹیز اپنی زندگی دوبارہ سنوار سکیں اور استحکام حاصل کر سکیں۔

37 سالہ اسما بی بی کلائمیٹ اور کمیونٹی کے کام کے اپنے عزم کو 2010 میں پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلابوں سے جوڑتی ہیں۔ 21 سال کی عمر میں انہوں نے اپنے آبائی شہر کو بڑے پیمانے پر تباہی کا شکار ہوتے دیکھا اور متاثرین کو طویل مدتی مشکلات جھیلتے ہوئے دیکھا۔

انہوں نے کہا کہ “مجھے احساس ہوا کہ موسمیاتی آفات صرف ماحولیاتی نقصان نہیں لاتیں بلکہ گہرا نفسیاتی صدمہ بھی پیدا کرتی ہیں۔ اسی لمحے میں نے اپنی زندگی موسمیاتی تحفظ اور کمیونٹی سپورٹ کے لئے وقف کرنے کا فیصلہ کیا۔”

نوکری شروع کرنے کے بعد انہوں نے اپنی تنخواہ کا 70 فیصد حصہ موسمیاتی تعلیم، نفسیاتی مدد اور شجرکاری جیسے فلاحی کاموں کے لئے وقف کر دیا۔ گزشتہ سالوں کے دوران انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر 1,200 سے زیادہ کمیونٹی آگاہی سیشن کئے، 16 ہزار سے زائد درخت لگائے اور پاکستان کے 28 شہروں اور 300 دیہات کا سفر کیا۔

نچلی سطح پر کام کے لئے مضبوط تعلیمی بنیاد حاصل کرنے کی خاطر وہ 2024 میں تیانجن یونیورسٹی کے سکول آف آرکیٹیکچر آئیں تاکہ لینڈ سکیپ آرکیٹیکچر میں پی ایچ ڈی کر سکیں۔ ان کی تحقیق موسمیاتی تبدیلی، ذہنی صحت اور قدرتی بنیادوں پر حل کے باہمی تعلق پر مرکوز ہے۔

انہوں نے کہا کہ “میری تحقیق اس بات پر مرکوز ہے کہ کیسے ایسے پائیدار اور کمیونٹی پر مبنی رہائشی ماحول بنائے جائیں جو موسمیاتی خطرات سے دوچار کمیونٹیز کی ماحولیاتی استعداد اور ذہنی صحت دونوں کو بہتر بنا سکیں۔ میں چاہتی ہوں کہ علمی تحقیق کے ذریعے نچلی سطح کے کام کو مضبوط کیا جائے اور عملی تجربے کو قابل عمل سائنسی حل میں بدلا جائے۔”

چین میں اپنی تعلیم کے دوران انہوں نے خاص طور پر ماحولیاتی نظم و نسق کے حوالے سے چین کے طویل مدتی عزم سے متاثر ہونے کا ذکر کیا۔ انہوں نے چین کی مسلسل ماحولیاتی بحالی اور شجرکاری کی کوششوں کی مثال دی، جس نے بنجر اور ریگستانی زمین کے بڑے حصوں کو سرسبز اور قابل رہائش علاقوں میں تبدیل کیا ہے۔ "

انہوں نے کہا کہ “میرا ملک بار بار آنے والے سیلابوں، شدید گرمی کی لہروں اور ماحولیاتی انحطاط کا سامنا کر رہا ہے، اس لئے میں اسے گہرائی سے محسوس کرتی ہوں۔ مسلسل منصوبہ بندی، عوامی شرکت اور ماحولیاتی تحفظ کا مضبوط عزم بتدریج نازک ماحولیاتی نظام کو تبدیل کر سکتا ہے۔ یہ میرے لئے بہت حوصلہ افزا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں سب سے زیادہ یہ بات متاثر کرتی ہے کہ چین کا ماحولیاتی نظم و نسق صرف ماحول کی بحالی تک محدود نہیں بلکہ لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے اور صحت مند رہائشی ماحول پیدا کرنے پر بھی مرکوز ہے۔

انہوں نے کہا کہ “اس نے میرے اس یقین کو مزید مضبوط کیا ہے کہ موسمیاتی نظم و نسق تب ہی حقیقی نتائج دے سکتا ہے جب اس میں سائنسی سوچ، عوامی شرکت اور طویل المدتی وژن شامل ہو۔”

تیانجن یونیورسٹی کے تعلیمی پلیٹ فارم کی بدولت اسما بی بی نے اپنی تحقیق کو بین الاقوامی سطح پر مزید وسعت دی ہے۔ اپریل میں انہوں نے ماسکو میں ہونے والی دوسری اوپن ڈائیلاگ کانفرنس “فیوچر آف دی ورلڈ، اے نیو پلیٹ فارم فار گلوبل گروتھ” میں شرکت کی، جہاں ان کا مقالہ’’سیلابوں سے مستقبل تک۔ مربوط موسمیاتی اور ذہنی صحت کی صلاحیت کے لئے تبدیلی کا نظریہ‘‘ کانفرنس کی کارروائی میں شامل کیا گیا۔ جولائی میں وہ یونیورسٹی آف مانچسٹر میں 14ویں بین الاقوامی پبلک ہیلتھ فیسٹیول میں کلیدی خطاب بھی کریں گی۔

مستقبل کے حوالے سے اسما بی بی کا مقصد واضح ہے: ایک ایسا باصلاحیت ماڈل مزید بہتر بنانا جو موسمیاتی تبدیلی، ذہنی صحت اور کمیونٹی ترقی کو جوڑتا ہو اور پاکستان میں ان کے برسوں کے نچلی سطح کے تجربے کو ایک معیاری تعلیمی فریم ورک میں تبدیل کرنا جو عالمی سطح پر اپنایا جا سکے۔

وہ یہ بھی امید رکھتی ہیں کہ وہ تیانجن یونیورسٹی کو ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرتے ہوئے نوجوان چینی اور پاکستانی محققین کے درمیان موسمیاتی موافقت، آفات کے بعد نفسیاتی بحالی اور ماحولیاتی نظم و نسق کے شعبوں میں مشترکہ تحقیق کو فروغ دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ چینی تجربات کو پاکستان جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار کمیونٹیز تک پہنچا کر دونوں ممالک تعلیمی تعاون اور نوجوانوں کے تبادلے کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں جبکہ مقامی حالات کے مطابق ماحول دوست حل بھی آگے بڑھا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button