
پاکستان کا اسپین کے ساتھ زرعی تعاون اور تجارتی شراکت داری مزید مضبوط بنانے پر زور
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے پاکستان میں اسپین کے سفیر کارلوس آراگون گل دے لا سرنا سے اعلیٰ سطح کی ملاقات کی، جس میں زراعت، غذائی تحفظ، تجارت اور کثیرالجہتی تعاون کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کی عکاسی ہوئی۔ دونوں فریقین نے زرعی شعبے میں تعاون کو وسعت دینے اور باہمی تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر ہسپانوی سفیر نے پاکستان کو انٹرنیشنل اولیو کونسل (IOC) کی مکمل رکنیت حاصل کرنے پر مبارکباد دی اور عالمی زیتون کے شعبے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کو سراہا۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے حکومتِ اسپین، بالخصوص اسپین کے وزیر زراعت، کا پاکستان کی آئی او سی کی مکمل رکنیت کے حصول میں بھرپور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپین کی قیمتی معاونت نے دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
ہسپانوی سفیر نے اسپین میں مقیم تقریباً ڈیڑھ لاکھ پاکستانیوں کی مثبت خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط اور تجارتی تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ اسپین کے ساتھ پاکستان کا تجارتی توازن پاکستان کے حق میں ہے اور پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات اسپین کو برآمد کی جانے والی اہم اشیاء میں شامل ہیں۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے پاکستان کی زرعی پیداوار اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے جدید زرعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں اسپین کے ساتھ تعاون کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے پریسیژن فارمنگ، جدید آبپاشی نظام، زیتون کی کاشت، گرین ہاؤس فارمنگ، زرعی مشینری اور پانی کے مؤثر انتظام میں اسپین کی عالمی مہارت کا حوالہ دیتے ہوئے ہسپانوی کمپنیوں اور اداروں کو پاکستان میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ تحقیق اور استعدادِ کار بڑھانے کے منصوبوں میں تعاون کی دعوت دی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ سے پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، فی ایکڑ پیداوار اور معیار میں بہتری، پانی کے مؤثر استعمال، غذائی تحفظ کے فروغ اور پاکستانی زرعی مصنوعات کی عالمی منڈی میں مسابقت بڑھانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان جدت پر مبنی اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔
دوطرفہ تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے وفاقی وزیر نے پاکستان۔اسپین مشترکہ ورکنگ گروپ برائے زراعت کے قیام کی تجویز پیش کی، جو زرعی تحقیق، ٹیکنالوجی کی منتقلی، سرمایہ کاری، غذائی تحفظ اور تجارت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔ ہسپانوی فریق نے اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس کے جلد قیام پر آمادگی ظاہر کی۔
وفاقی وزیر نے پاکستان کی وسیع زرعی استعداد پر روشنی ڈالتے ہوئے اسپین کو زرعی تجارت میں مزید تعاون کی دعوت دی اور کہا کہ پاکستان اسپین کو چاول، ایتھانول، آلو اور مکئی کی برآمدات میں اضافہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی تجارت میں توسیع دونوں ممالک کے لیے معاشی فوائد اور پائیدار زرعی ترقی کا باعث بنے گی۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، زرعی تعاون کو وسعت دینے، تجارت کے فروغ اور علاقائی و بین الاقوامی فورمز پر قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔















