بسم اللہ الرحمن الرحیم

تجارت

پاکستان اور علی بابا گروپ کے درمیان ڈیجیٹل تبدیلی اور تکنیکی ترقی کے فروغ کے لیے متعدد مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط

پاکستان اور علی بابا گروپ کے درمیان ڈیجیٹل تبدیلی اور تکنیکی ترقی کے فروغ کے لیے متعدد مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔

یہ معاہدے وزیراعظم شہباز شریف کے ہانگژو میں علی بابا گروپ کے ہیڈکوارٹرز کے دورے کے دوران طے پائے۔

معاہدوں کا مقصد علی بابا گروپ کے اشتراک سے پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کو تیز کرنا ہے۔

وزیراعظم کی خصوصی کاوش پر علی بابا گروپ کے چیئرمین جو تسائی نے حکومتِ پاکستان اور علی بابا گروپ کے درمیان ایک جامع اسٹریٹجک فریم ورک معاہدے پر دستخط کرنے پر اتفاق کیا۔ اس فریم ورک کے تحت مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ سلوشنز، ڈیجیٹل تجارت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے فروغ، فن ٹیک اور صحت کے شعبے میں جدت کے ذریعے پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کیا جائے گا۔

ملاقات کے دوران چیئرمین جو تسائی نے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت کردار اور کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے ڈیجیٹل تبدیلی، تکنیکی جدت اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے حکومتی عزم کی بھی تعریف کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت، ای کامرس، مصنوعی ذہانت، فن ٹیک، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور جدت پر مبنی کاروباری مواقع کی وسیع صلاحیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو ٹیکنالوجی، مہارتوں کی ترقی اور عالمی شراکت داریوں کے ذریعے بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کے ساتھ علی بابا گروپ کے طویل المدتی تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس شراکت داری کو پاک چین اقتصادی اور تکنیکی تعاون کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔

دورے کے دوران طے پانے والے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ سلوشنز:
پاکستان کے ادارے اگنائٹ اور علی بابا کلاؤڈ مقامی سطح پر اردو اور علاقائی زبانوں کے لیے اے آئی ماڈلز تیار کریں گے، پانچ لاکھ افراد کے لیے مہارتوں کی تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں گے، جبکہ اے آئی ہیکاتھونز اور جدت پر مبنی سرگرمیوں کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔

صحت کی ٹیکنالوجی اور ایمبوڈیڈ انٹیلی جنس:
ڈیمو اکیڈمی اور اسکائی 47 بڑے پاکستانی شہروں میں اے آئی سے چلنے والے بیماریوں کی تشخیص کے نظام متعارف کرائیں گے، جبکہ ڈیمو اکیڈمی اور اگنائٹ پاکستانی جامعات میں ایمبوڈیڈ انٹیلی جنس کی استعداد بڑھانے کے پروگرام مشترکہ طور پر شروع کریں گے۔

چھوٹے کاروبار اور ای کامرس کا فروغ:
علی بابا اور سمیڈا کم از کم دو ہزار پاکستانی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو “پاکستان پویلین” میں شامل کریں گے، تاکہ وہ اے آئی سے چلنے والے کاروباری آلات اور عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی سے فائدہ اٹھا سکیں۔

مالی شمولیت:
کوکو ٹیک پاکستان میں “ابھی خریدیں، بعد میں ادائیگی کریں” (BNPL) نظام متعارف کرائے گا، جس کے لیے ابتدائی طور پر تیس لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی تاکہ مالی شمولیت اور ڈیجیٹل تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ معاہدے پاکستان اور چین کے درمیان سرمایہ کاری، جدت، روزگار کے مواقع اور تکنیکی تعاون کے نئے دروازے کھولیں گے، جبکہ پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت کے ابھرتے ہوئے علاقائی مرکز کے طور پر بھی مستحکم کریں گے۔

اس سے قبل علی بابا گروپ کے ہیڈکوارٹرز پہنچنے پر چیئرمین جو تسائی نے وزیراعظم کا پرتپاک استقبال کیا۔

اس موقع پر پاکستان کے وفاقی وزراء، اعلیٰ حکام اور علی بابا گروپ کے سینئر عہدیداران بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button