بسم اللہ الرحمن الرحیم

بین الاقوامی

میانمار میں فوجی سربراہ جنرل من آنگ ہلینگ نئے ملکی صدر منتخب

ایوانِ بالا اور زیریں کے اجلاس میں ہونے والی ووٹنگ میں جنرل من آنگ ہلینگ نے584 میں سے 429 ووٹ حاصل کیے

میانمار کی پارلیمنٹ نے جمعہ کو ملکی فوجی سربراہ من آنگ ہلینگ کو صدر منتخب کر لیا، جس کے بعد وہ پانچ سال قبل طاقت کے زور پر اقتدار سنبھالنے کے بعد اب ایک سویلین حیثیت میں اپنی حکمرانی جاری رکھیں گے۔ انہوں نے 2021 ء میں ایک فوجی بغاوت کی قیادت کرتے ہوئے ملک میں جمہوری نظام کی بساط لپیٹ کر منتخب رہنما آنگ سان سوچی کو حراست میں لینے کے بعد ان کی سیاسی جماعت کو بھی تحلیل کر دیا تھا۔

جرمن ٹی وی نے اے ایف پی کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا اور زیریں کے اجلاس میں ہونے والی ووٹنگ میں من آنگ ہلینگ نے تین امیدواروں کے مقابلے میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔

پارلیمانی اسپیکر آنگ لن وی نے اعلان کیا، ”ہم سینئر جنرل من آنگ ہلینگ کے صدر منتخب ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔”پارلیمانی حکام کے مطابق انہوں نے 584 میں سے 429 ووٹ حاصل کیے۔ اگرچہ فوجی جنتا نے گزشتہ ماہ پارلیمنٹ کی بحالی کو عوامی اقتدار کی واپسی قرار دیا تھا تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام دراصل فوجی حکمرانی کو سویلین لبادہ پہنانے کی کوشش ہے۔

فوج کی حمایت یافتہ جماعت یونین سالیڈیرٹی اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (یو ایس ڈی پی) نے جنوری میں ہونے والے انتخابات میں 80 فیصد سے زائد نشستیں حاصل کیں جبکہ فوج کے ارکان بغیر انتخاب کے بھی پارلیمنٹ کی ایک چوتھائی نشستوں پر موجود ہیں۔

آنگ سان سوچی بدستور 2021 کی بغاوت کے بعد سے زیر حراست ہیں جبکہ انتخابات پر تنقید اور احتجاج پر پابندی عائد رہی اور باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں ووٹنگ نہیں ہو سکی۔ انتخابات کے باوجود حزب اختلاف کی مزاحمت جاری ہے اور ملک میں جاری خانہ جنگی اور انسانی بحران میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ 2021 کی بغاوت کے بعد سے اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں

یہ بھی پڑھیے

Back to top button