
خلیجی بحران: کراچی اور گوادر بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیوں میں تیزی
خلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان کی سمندری تجارت میں نمایاں بہتری دیکھی جا رہی ہے، جبکہ کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی علاقائی اہمیت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق، ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا ٹرانس شپمنٹ کارگو متعدد بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا۔ دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر پہنچ چکے ہیں جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق کراچی میں ہچیسن پورٹس کا ٹرمینل چار ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو یونٹس سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14,300 تک پہنچ جائے گی۔
خلیجی خطے میں بحری نقل و حمل کو درپیش چیلنجز کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں متبادل راستوں کے طور پر پاکستانی بندرگاہوں کو زیادہ اہمیت دے رہی ہیں۔
میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے اثرات کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں تجارتی سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو مزید پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری کے منصوبوں سے گوادر پورٹ کی اہمیت مزید بڑھے گی، جبکہ کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر خطے کے اہم لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ مراکز کے طور پر ابھر رہے ہیں۔















