بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

چوہدری تنویر کی ضمانت منظور

عدالت نے 11 مارچ کو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق سینیٹر چوہدری تنویر خان کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔

رپورٹ کے مطابق چوہدری تنویر گرفتاری کے بعد ریمانڈ پر تھے، انہیں دو ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت دی گئی ہے جس کی مالیت 10، 10 لاکھ روپے ہے، ضمانتی دستاویزات کی تکمیل کے بعد انہیں آج (بدھ) کو رہا کردیا جائے گا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما کی جانب سے ملک وحید انجم ایڈووکیٹ خصوصی جج اینٹی کرپشن مسرور زمان کی عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے مؤکل کا ہیلتھ سرٹیفکیٹ پیش کیا اور دل کے مریض ہونے کی وجہ سے ضمانت کی درخواست کی۔

چوہدری تنویر خان کو کراچی ایئرپورٹ پر گرفتار کرنے کے بعد راولپنڈی لایا گیا تھا جہاں ڈیوٹی مجسٹریٹ نے انہیں ایک روز کی ریمانڈ پر بھیج دیا تھا۔

بعد ازاں انہیں سینے میں درد کے باعث راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی آر آئی سی منتقل کردیا گیا تھا۔

ایک روزہ ریمانڈ کی تکمیل کے بعد تنویر خان کو سخت سیکیورٹی میں سینئر سول جج محمد قذافی بن سیر امید کی عدالت میں پیش کرتے ہوئے مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ کا مطالبہ کیا تھا۔

سینئر سول جج نے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں 21 مارچ کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم ملزم کے بیان کے مطابق کہ وہ دل کی بیماری میں مبتلا ہے اور اس کا دل صرف 20 فیصد تک کام کر رہا ہے۔

عدالت کی جانب سے تفتیشی افسر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر آر آئی سی سے ملزم کا معائنہ کروائیں اور ضروری علاج کے ساتھ ساتھ ادویات بھی فراہم کریں۔

چوہدری تنویر خان کوآر آئی سی کے سینئر ڈاکٹروں کے ایک بورڈ نے انجیوگرافی ٹیسٹ اور کورونری انجیوگرام کی تجویز دی تھی، کورونری انجیوگرام کے ذریعے دل میں بند یا تنگ خون کی نالیوں کو دکھا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ تنویر خان اپنی بیماری کے باعث بیرون ملک مقیم تھے اور اپنے بیٹے کی شادی میں شرکت کے لیے پاکستان واپس آئے تھے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے انہیں 11 مارچ کو ملک سے باہر جاتے ہوئے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی سے گرفتار کیا تھا کیونکہ ان کا نام اےسی ای پنجاب کی جانب سے درج کرپشن کیس کے سلسلے میں واچ لسٹ میں شامل تھا۔

اے سی ای کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے رہنما کو 8 مارچ 2022 کو ان کے خلاف درج مقدمے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اے سی ای کے ڈائریکٹر نعیم اللہ بھٹی نے ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی جس میں سرکل آفیسر راولپنڈی ذوالفقار بایزید، سرکل آفیسر اٹک ثناء اللہ اور دیگر شامل تھے۔

Back to top button