بسم اللہ الرحمن الرحیم

کھیل

انگلینڈ نے پاکستان کو ون ڈے سیریز میں وائٹ واش کر ڈالا

انگلینڈ کے سیریز کے تیسرے ون ڈے میچ میں پاکستان کو 3 وکٹوں سے ہراکرکلین سویپ مکمل کرلیا۔ برمنگھم میں 20 ہزار تماشائیوں کی موجودگی میں کھیلے جا رہے سیریز کے تیسرے اور آخری ٹی20 میچ میں انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ پاکستان نے اننگز کا آغاز کیا تو پہلی ہی گیند پر امام الحق نے چوکے کے ساتھ اننگز کا آغاز کیا جبکہ وہ اسی اوور میں خوش قسمت بھی رہے کیونکہ ان کے خلاف ایل بی ڈبلیو کی زوردار اپیل مسترد کردی گئی۔دونوں اوپنرز نے اسکور کو 21 تک پہنچایا ہی تھا کہ فخر زمان صرف چھ رنز بنانے کے بعد ثاقب محمود وکٹ دے بیٹھے۔ اس کے بعد امام کا ساتھ دینے کپتان بابر اعظم آئے اور دونوں نے اب مزید کوئی اور وکٹ نہیں گرنے دی۔

امام الحق نے ابتدائی دو میچوں میں ناکامی کے بعد اس میچ میں قدرے بہتر کھیل پیش کرتے ہوئے نصف سنچری مکمل کی اور کپتان کے ہمراہ 92 رنز کی شراکت قائم کی۔امام 56 رنز بنانے کے بعد میٹ پارکنسن کی میچ میں پہلی وکٹ بن گئے۔ امام کے آؤٹ ہونے کے بعد بابر نے نئے بلے باز محمد رضوان کے ساتھ مل کر تیزی سے سکور کو آگے بڑھانا شروع کیا اور دونوں کھلاڑیوں نے 8 کی اوسط سے رنز بناتے ہوئے سنچری شراکت قائم کی۔ بابراعظم لگاتا دو میچوں میں ناکامی کے بعد ایک مرتبہ پھر پرانی فارم میں نظر آئے اور ابتدا میں سست کھیل کے بعد شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے ون ڈے کرکٹ میں اپنی 14ویں سنچری مکمل کی اور 81 اننگز میں یہ کارنامہ سر انجام دے کر ہاشم آملا(84) کو پیچھے چھوڑ دیا۔

بابراعظم اور محمد رضوان نے 20اوورز سے کم اوورزمیں 179 رنز کی بہترین شراکت قائم کی اور اس شراکت کا خاتمہ اس وقت ہوا جب رضوان 58 گیندوں پر 74 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہو گئے۔ صہیب مقصود، حسن علی اور فہیم اشرف ایک دو بڑے شاٹس لگا کر پویلین لوٹ گئے جبکہ شاداب خان اور شاہین آفریدی نے اسکور بورڈ کو زحمت نہیں دی،دوسرے اینڈ سے بابراعظم نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے ون ڈے کرکٹ میں اپنی سب سے بڑی اننگز کھیلی، وہ اننگز کے آخری اوور میں 4 چھکوں اور 14 چوکوں کی مدد سے 158 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹے۔

پاکستان نے مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 331 رنز بنائے، انگلینڈ کی جانب سے بریڈن کارس نے 5 وکٹیں حاصل کیں۔ فل سالٹ نے پہلے اوور میں شاہین آفریدی کو 4 چوکے لگا کر دھواں دار آغاز کیا تاہم دوسرے اوور میں حسن علی نے ڈیوڈ مالان کو صفر پر آؤٹ کردیا۔ فل سالٹ نے زیک کرالی کے ساتھ ملکر سکور 53 رنز تک پہنچایا لیکن حارث رؤف کی گیند پر 37 رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد فخر زمان کو کیچ دیکر پویلین لوٹ گئے۔

انگلینڈ کی تیسری وکٹ زیک کرالی کی صورت میں گری جب حارث رؤف نے ان کی جارحانہ اننگز کا خاتمہ کردیا، جس میں 7 چوکے شامل تھے۔ شاداب خان نے تجربہ کار آل راؤنڈر اور قائم مقام کپتان بین سٹوکس کو محمد رضوان کے ہاتھوں کیچ کروا دیا، سٹوکس 28 گیندوں پر 32 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ شاداب نے ایک اور وکٹ حاصل کرتے ہوئے جان سمپسن کو چلتا کر کے انگلینڈ کو پانچواں نقصان پہنچایا۔

165 رنز پر پانچ وکٹیں گرنے کے بعد میچ میں پاکستان کی فتح کے امکانات روشن ہو گئے تھے لیکن جیمز ونس اور گزشتہ میچ کے ہیرو لوئس گریگری نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور چھٹی وکٹ کے لیے 129رنز کی شراکت قائم کر کے قومی ٹیم کو فتح کی دہلیز تک پہنچا دیا۔ جیمز ونس نے مشکل وقت میں بہترین بیٹنگ کرتے ہوئے کیریئر کی پہلی سنچری مکمل کرنے کا اعزاز حاصل کیا لیکن 294 کے مجموعی سکور پر حارث رؤف نے ان کی 102رنز کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔

گریگری نے ایک مرتبہ پھر بہترین بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور کیریئر کی بہترین 77 رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد وہ بھی حارث کو وکٹ دے بیٹھے۔ 7 وکٹیں گرنے کے باوجود ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کو کوئی مشکل پیش نہ آئی اور بریڈن کارس اور کریگ اوورٹن نے اپنی ٹیم کو دو اوور قبل ہی شاندار فتح سے ہمکنار کرا دیا۔ اس فتح کے ساتھ ہی ناتجربہ کار انگلش ٹیم نے ون ڈے سیریز میں 0-3 سے کلین سوئپ مکمل کر لیا۔

پاکستان کی جانب سے حارث رؤف چار وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باؤلر رہے جبکہ شاداب خان نے دو وکٹیں اپنے نام کیں۔ جیمز ونس کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ سیریز کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ ثاقب محمود لے اڑے۔ پاکستان نے سیریز ہارنے کے باوجود فائنل الیون میں کوئی تبدیلی نہیں کی جبکہ انگلینڈ نے بھی فاتح ٹیم میں تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

میچ کے لیے انگلینڈ بین سٹوکس(کپتان)، ڈیوڈ ملان، فل سالٹ، زیک کرالی، جیمز ونس، جان سمپسن، لوئس گریگوری، کریگ اوورٹن، بریڈن کارس، ثاقب محمود اور میٹ پارکنسن کے ساتھ میدان میں اتری ہے جب کہ پاکستانی ٹیم بابراعظم (کپتان)، فخر زمان، امام الحق، محمد رضوان، سعود شکیل، صہیب مقصود، شاداب خان، فہیم اشرف، حسن علی، شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف پر مشتمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button