بین الاقوامی

نائیجیریا کی نجوزی اکونجو اویلا عالمی ادارہ تجارت کی سربراہ منتخب

افریقی ملک نائیجیریا سے تعلق رکھنے والی 66 سالہ نجوزی اکونجو اویلا نے عالمی ادارہ تجارت کی سربراہی حاصل  کر لی ہے ۔ فروری میں ڈی جی منتخب ہونے کے بعد نجوزی اکونجو اویلا نے یکم مارچ سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں اور انہوں نے جنیوا میں موجود عالمی ادارہ تجارت کے پہلے اعلی سطح کے اجلاس کی سربراہی بھی کی، جس میں کورونا کے تناظر میں عالمی تجارت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔۔

نجوزی اکونجو اویلا کو عالمی تجارت کے جنرل کونسل کے 4 ماہ تک ہونے والے اجلاسوں کے بعد گزشتہ برس فروری کے وسط میں ڈی جی کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ اگرچہ اکتوبر 2020 میں ہی عالمی ادارہ تجارت نے جاری کردہ بیان میں تصدیق کی تھی کہ اس بار کوئی خاتون ہی ڈائریکٹر جنرل کے عہدے کے لیے منتخب ہوگی، کیوں کہ اکتوبر میں ہونے والے اجلاسوں میں اعلی ترین عہدوں کے لیے دو خواتین کو ہی شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔

نجوزی اکونجو اویلا کے ساتھ اکتوبر 2020 میں جنوبی کوریا کی وزیر تجارت 53 سالہ یو میونگ ہی کو بھی ڈائریکٹر جنرل کے حتمی انتخاب کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا تھا مگر بعد ازاں جنوبی کورین خاتون نے مزید انتخاب لڑنے سے معذرت کرلی تھی۔ جنوبی کورین خاتون کی جانب سے معذرت کیے جانے کے بعد اگرچہ نجوزی اکونجو اویلا کے ڈی جی ہونے کی راہ ہموار ہوگئی تھی مگر اس کے باوجود جنرل کونسل یعنی ممبر ممالک کے عہدیداروں سے اس کی منظوری لینے میں چند ماہ لگے اور فروری میں تمام اراکین نے نائیجریا کی سابق وزیر خزانہ اور سابق وزیر خارجہ کو عالمی ادارہ تجارت کا ڈی جی بنانے پر اتفاق کیا۔

خیال رہے کہ عالمی ادارہ تجارت کا قیام 1995 میں کیا گیا تھا، مذکورہ ادارے کے پاکستان سمیت 164 سے زائد ممالک رکن ہیں اور یہ ادارہ ممبر ممالک کے درمیان تجارت و واپار سے متعلق قوانین و ضوابط بنانے کا کام سر انجام دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button