بسم اللہ الرحمن الرحیم

جموں و کشمیر

کشمیری قیدیوں کو فی الفوررہا کیا جائے، حریت رہنماء الطاف وانی کا بھارت سے مطالبہ

بھارت کے مختلف جیلوں میں قیدو بند تمام غیر قانونی طور پر نظربند حریت رہنماؤں اور کارکن کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے معروف حریت رہنماء اور سینئر وائس چیئرمین جموں وکشمیر نیشنل فرنٹ الطاف حسین وانی نے کہا ہے کہ کشمیری قیدیوں کو اس انتہائی نازک صورتحال میں بھارت کے دور دراز جھیلوں میں رکھنے کا بھارتی حکومت کا دانستہ اقدام نہ صرف غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے بلکہ یہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

 اتوار کو یہاں جاری ایک پریس بیان میں مسٹر وانی نے کہا، ”ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں کرونا کے وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے مختلف ملکو ں نے جیلوں میں تعداد گھٹانے کا طریقہ کار اپنایاہے  ہندوستان کی حکومت نے اس کے برعکس کشمیری قیدیوں کی رہا کرنے  سے انکار کیا  اور اس بارے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے مطالبات کو بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی سے مسترد کردیا ہے۔” انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ غیر قانونی طور پر حریت رہنماؤں اور کارکنوں کو نظربند کیا گیا ہے جو بھارت میں دور دراز اور انتہائی بھیڑ بھری جیلوں میں مقید ہیں۔ وانی نے کہا، ” لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے حراست میں لیے گئے افراد کے اہل حانہ بھی ان سے ملنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ”، وانی نے مزید کہا کہ اس انتہائی نازک وقت پر ہندوستانی حکومت کو دنیا کے دوسرے ممالک سے سبق حاصل کرنا چاہیے جنہوں نے انسانی بنیادوں پر CoVID-19 وبائی بیماری کے پیش نظر قیدیوں کو رہا کیا ہے۔

مقبوضہ جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے جے کے این ایف رہنما نے کہا کہ کورونا بحران کے دوران وادی میں انسانی حقوق کی صورتحال اور بھی خراب ہوئی ہے۔ وادی میں حال ہی میں رونما ہونے والے ایک دلخراش واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے  انکا کہنا تھا کہ قابض فوج نے کشمیر میں ظلم و بربریت کی تمام حدیں عبور کرلی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”کشمیری نوجوانوں کا قتل عام کشمیر میں تعینات قابض فوجیوں کے  لئے ایک  معمول بن چکا ہے”، انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں صورتحال اتنی خراب ہوگئی ہے کہ کشمیری اپنے پیاروں کی موت پر سوگ تک نہیں کرسکتے ہیں۔ وانی نے کہا، ”بھارت نے محکوم کشمیریوں سے سوگ کا حق بھی چھین لیا  ہے۔” اس سے بھی زیادہ وحشیانہ بات یہ ہے کہ ہندوستانی قابض فوج نے شہید ہونے والے نوجوانوں کے لواحقین  اور انکے ورثاء کو انکی آخری رسومات میں شریک ہونے کا حق سے بھی محروم کردیا ہے۔انہوں نے وادی کشمیر میں کورونا وائرس سیفٹی کٹس کی کمی پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا، ”ضروری سامان کی کمی اور خاص طور پر ذاتی حفاظتی آلات (پی پی ای) کی عدم دستیابی، ڈاکٹروں، پیرا میڈیکس اور صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں کے لئے وادی میں کورونا کا مقابلہ کرنا انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔وانی نے بتایا کہ اسپتالوں میں وینٹیلیٹروں سمیت اہم دوائیوں اور طبی سامان کی شدید قلت ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر میں 71000 افراد کے لئے 1 وینٹیلیٹر ہے، 3900 مریضوں کے لئے ایک ڈاکٹر ہے۔ جے کے این ایف کے رہنما نے کہا، ”اس کے برعکس بھارت نے ہر 10 کشمیریوں کے لئے  کیل کانٹے سے لیس1 بندوق بردارتعینات کیا ہے۔”

دریں اثنا، جے کے این ایف کے ترجمان نے ایک علیحدہ بیان میں کشمیری آزادی پسند رہنما اور جموں کشمیر پیپلز لیگ کے چیئرمین ایس حمید کو خراج تحسین پیش کیا جنھیں 90 کی دہائی کے وسط میں بھارتی فورسز نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button