بسم اللہ الرحمن الرحیم

تعلیم

37ویں انٹرنیشنل بائیولوجی اولمپیاڈ میں پاکستان کی شاندار کامیابی، چاندی کا تمغہ اور اعزازی سند حاصل کر لی

پاکستان نے بین الاقوامی سائنسی مقابلوں میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے 37ویں انٹرنیشنل بائیولوجی اولمپیاڈ میں چاندی کا تمغہ اور اعزازی سند حاصل کر لی۔ یہ عالمی مقابلہ 12 سے 19 جولائی 2026 تک ولنیئس، لتھوانیا میں منعقد ہوا، جس میں 90 سے زائد ممالک کے 350 سے زیادہ نمایاں طلبہ نے شرکت کی۔ یہ مقابلہ دنیا بھر کے ہائی اسکول کے طلبہ کے لیے بائیولوجی کے سب سے معتبر سائنسی مقابلوں میں شمار ہوتا ہے

پاکستانی طلبہ کا انتخاب سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھمیٹکس کے شعبوں میں رہنمائی کے پروگرام کے تحت کیا گیا جو ہائر ایجوکیشن کمیشن اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز (پیاس) کا مشترکہ اقدام ہے۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اپنے ذیلی ادارے پیاس کے ذریعے ملک میں سائنسی تعلیم، جدید تحقیق، افرادی قوت کی تربیت اور نوجوان صلاحیتوں کے فروغ کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔ کمیشن سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں معیاری تعلیم اور تحقیق کو فروغ دے کر ملک کی سماجی اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے

انٹرنیشنل اسکول لاہور (لیگیسی کیمپس) کے طالب علم حسن عاطف چیمہ نے پاکستان کے لیے چاندی کا تمغہ حاصل کیا جبکہ کراچی گرامر اسکول کے طالب علم محمد مطاہر کو اعزازی سند سے نوازا گیا۔ یہ کامیابی عالمی سطح پر پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کا ایک اور واضح ثبوت ہے۔

پاکستانی ٹیم کا انتخاب 22ویں قومی سائنسی ٹیلنٹ مقابلے کے ذریعے کیا گیا۔ سخت اور شفاف انتخابی عمل کے بعد طلبہ کو نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ کالج، پیاس میں خصوصی رہائشی تربیت فراہم کی گئی۔ یہ ادارہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زیرِ انتظام کام کرتا ہے، جہاں قومی اور بین الاقوامی ماہرین نے طلبہ کو عالمی معیار کی تربیت دی تاکہ وہ مقابلے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں

پاکستانی ٹیم کی قیادت پروفیسر ڈاکٹر اسماء عمران اور ڈاکٹر عامر علی نے کی، جنہوں نے تیاری سے لے کر عالمی مقابلے میں شرکت تک طلبہ کی بھرپور رہنمائی اور نگرانی کی۔
پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے عالمی سائنس مقابلوں میں مسلسل شرکت کر رہا ہے۔

پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے عالمی سائنس اولمپیاڈز میں مسلسل شرکت کر رہا ہے۔ پاکستان نے انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ میں 2001، انٹرنیشنل میتھمیٹکس اولمپیاڈ میں 2005 جبکہ انٹرنیشنل بائیولوجی اور کیمسٹری اولمپیاڈز میں 2006 سے باقاعدہ شرکت کا آغاز کیا۔

اس پروگرام کے آغاز سے اب تک 365 سے زائد پاکستانی طلبہ عالمی سائنس مقابلوں میں ملک کی نمائندگی کر چکے ہیں اور 144 بین الاقوامی تمغے حاصل کر چکے ہیں۔ اسی عرصے کے دوران 256 سے زائد خصوصی تربیتی کیمپوں کے ذریعے 5 ہزار سے زیادہ طلبہ کو جدید سائنسی تربیت فراہم کی جا چکی ہے۔ یہ کامیابیاں نوجوان سائنس دانوں، محققین اور تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد کی تیاری کے لیے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اور پیاس کے پختہ عزم کا مظہر ہیں۔
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ملک میں سائنس، تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ کمیشن نوجوان نسل کو بہترین تعلیمی اور تربیتی مواقع فراہم کر کے مستقبل کے سائنس دانوں، انجینئروں، تحقیق کے شعبے سے وابستہ افراد اور نئی ایجادات کرنے والے نوجوانوں کی تیاری کے لیے پُرعزم ہے تاکہ پاکستان علم، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی سطح پر مزید نمایاں مقام حاصل کر سکے

اشتہار

یہ بھی پڑھیے

Back to top button