
چار فون کالز، 10 منٹ کا فیصلہ؛ نیپالی پرنسپل نے 1600 طلبہ کی جان بچالی
مسلسل چار فون کالز میں سیلاب کی وارننگ ملنے پر فوری فیصلہ، 900 طلبا اور عملے کو بلند مقام پر منتقل کردیا؛ چند منٹ بعد ہاسٹل کی عمارت سیلابی ریلے میں بہہ گئی
نیپال میں ایک اسکول کے پرنسپل کے بروقت اور فوری فیصلے نے تقریباً 1643 طلبہ اور عملے کو ممکنہ بڑے جانی نقصان سے بچا لیا۔
سیلاب کے خطرے سے متعلق مسلسل موصول ہونے والی وارننگز کے بعد پرنسپل نے معمول کی سرگرمیاں روک کر تمام طلبہ کو فوری طور پر محفوظ اور بلند مقام پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
میڈیارپورٹس کے مطابق نیپال کے ضلع نوواکوٹ میں واقع تری بھوون تریشولی سیکنڈری اسکول کے سربراہ راجیندر داوادی نے بتایا کہ انہیں چند ہی منٹوں کے دوران مختلف افراد کی جانب سے چار فون کالز موصول ہوئیں، جن میں علاقے میں سیلاب کا خطرہ بڑھنے سے خبردار کیا گیا تھا۔ پرنسپل کے مطابق ایک کال میں یہ بھی بتایا گیا کہ دریائے بیتراوتی کے بالائی علاقے میں واقع بستی میں سیلابی پانی داخل ہوچکا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے انہوں نے مزید انتظار کیے بغیر طلبا اور عملے کو اسکول سے نکال کر بلند مقام پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
راجیندر داوادی کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا خطرے کے باوجود طلبہ کو اسکول میں رکھا جائے یا احتیاطی طور پر انہیں محفوظ مقام پر منتقل کردیا جائے۔ انہوں نے فوری طور پر انخلا کا فیصلہ کیا۔ ان کے بقول اگر سیلاب نہ بھی آتا تو اس فیصلے کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ ایک دن کی کلاسز متاثر ہوتیں، لیکن اگر سیلاب آجاتا تو نقصان ناقابل تلافی ہوسکتا تھا۔
طلبا اور عملے کو محفوظ مقام کی جانب منتقل کرنے کے دوران صورتحال انتہائی خوفناک ہوگئی۔
پرنسپل نے بتایا کہ جب وہ لوگوں کو بلند مقام کی طرف لے جا رہے تھے تو انہوں نے دریا سے تقریباً 100 میٹر کے فاصلے پر واقع ایک ہاسٹل کی عمارت کو سیلابی ریلے میں بہتے ہوئے دیکھا۔
راجیندر داوادی نے اس واقعے کی سنگینی بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگر طلبا کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا فیصلہ صرف 10 منٹ بعد کیا جاتا تو شاید وہ اور اسکول کے طلبا آج زندہ نہ ہوتے۔ ان کے بروقت فیصلے نے نہ صرف سینکڑوں بچوں کی زندگیاں محفوظ بنائیں بلکہ یہ بھی ظاہر کیا کہ قدرتی آفات کے دوران بروقت وارننگ اور فوری فیصلہ سازی کس قدر اہم کردار ادا کرتی ہے۔
نیپال میں حالیہ سیلاب نے مختلف علاقوں میں تباہی مچائی ہے، جہاں شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔ ایسے میں مقامی سطح پر موصول ہونے والی وارننگز کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری حفاظتی اقدامات کرنا انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوا۔















