
احسن اقبال کا امریکی جامعات کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون بڑھانے پر زور
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پاکستان کی علمی معیشت اور جدت کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے بوسٹن یونیورسٹی اور ہارورڈ کے اداروں کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
انہوں نے یہ بات بوسٹن میں ماہرین تعلیم، محققین اور جدت طرازی کے اداروں کے سربراہان کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے دوران کہی۔ ان ملاقاتوں کا مقصد اعلیٰ تعلیم، موسمیاتی استحکام، اقتصادی تبدیلی، عوامی پالیسی اور جدت کے شعبوں میں پاکستان اور امریکا کی ممتاز جامعات کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔
بوسٹن یونیورسٹی کے دورے کے دوران وفاقی وزیر نے پروفیسر عادل نجم اور نائب صدر برائے تحقیق ڈاکٹر کین لوچن سے ملاقات کی، جس میں تعلیمی تعاون کو وسعت دینے اور جدید تحقیقی شراکت داریوں کے ذریعے پاکستان کے انسانی سرمائے کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
احسن اقبال نے حکومت پاکستان کے فلیگ شپ منصوبے "یو ایس پاکستان نالج کوریڈور” کے بارے میں بریفنگ دی، جس کا مقصد 10 ہزار پاکستانی اسکالرز کو دنیا کی ممتاز جامعات میں پی ایچ ڈی تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے ایک مشترکہ ماڈل کی تجویز پیش کی جس کے تحت پاکستانی ڈاکٹریٹ محققین امریکا کی اعلیٰ جامعات میں پاکستان کے ترجیحی ترقیاتی چیلنجز پر تحقیق کر سکیں گے، جبکہ تعلیمی ادارے ٹیوشن معاونت فراہم کریں گے اور پاکستان انتظامی اخراجات برداشت کرے گا۔ اس تجویز کا خیرمقدم کیا گیا اور دونوں فریقین نے شراکت داری کے امکانات کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان عالمی معیار کے اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے معیاری تعلیم، تحقیق اور جدت میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے علم پر مبنی معیشت کی تعمیر کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے مصنوعی ذہانت کو اعلیٰ تعلیم میں شامل کرنے، بالخصوص نصاب سازی، تدریسی طریقہ کار اور طلبہ کی جانچ کے نظام میں امریکی جامعات کے تجربات سے استفادہ کرنے میں پاکستان کی دلچسپی کا اظہار کیا۔
بوسٹن یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل سسٹین ایبلٹی اور گلوبل ڈویلپمنٹ پالیسی سینٹر کے دورے کے دوران احسن اقبال نے ڈاکٹر بینجمن سوکوول اور ڈاکٹر ولیم کرنگ سے ملاقات کی، جس میں موسمیاتی استحکام، پائیدار ترقی اور تحقیقی تعاون پر گفتگو ہوئی۔
وفاقی وزیر نے بوسٹن یونیورسٹی کو پاکستان کے ساتھ موسمیاتی خطرات کی نشاندہی، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، صاف توانائی کی منتقلی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے جدید مالیاتی طریقہ کار کی تلاش میں تعاون کی دعوت دی۔
ملاقاتوں میں انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل سسٹین ایبلٹی، گلوبل ڈویلپمنٹ پالیسی سینٹر اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ موسمیاتی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو فروغ دیا جا سکے۔
احسن اقبال نے ہارورڈ کینیڈی اسکول کے گروتھ لیب کا بھی دورہ کیا، جہاں "اڑان پاکستان” اقدام کے تحت پاکستان کی طویل المدتی اقتصادی تبدیلی پر بات چیت ہوئی۔ انہوں نے گروتھ لیب کو 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت کے وژن کے حصول کے لیے جامع ترقیاتی حکمت عملی تیار کرنے میں حکومت کے ساتھ شراکت داری کی دعوت دی۔
عالمی تحقیقی مرکز جے-پی اے ایل کے دورے کے دوران، جو ہارورڈ یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے اشتراک سے کام کرتا ہے، وفاقی وزیر نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال دھالیوال سے ملاقات کی، جس میں شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور غربت کے خاتمے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
احسن اقبال نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی آزادانہ جانچ کی تجویز دی تاکہ غربت میں کمی کے لیے اس کی مؤثریت کا جائزہ لیا جا سکے، جبکہ پائیدار ترقی کے نتائج کے لیے مالی مراعات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
اپنے دورے کے اختتام پر وفاقی وزیر نے کیمبرج انوویشن سینٹر اور وینچر کیفے کا دورہ کیا، جہاں انہیں دنیا کے معروف جدت طرازی کے ماحولیاتی نظام کے بارے میں بریفنگ دی گئی جو اسٹارٹ اپس، جامعات، سرمایہ کاروں اور صنعت کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔















