بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

نجی املاک پر ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تنصیب کے لیے مالک کی اجازت لازمی قرار

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی نجی جائیداد پر ٹیلی کمیونی کیشن انفراسٹرکچر نصب کرنے کے لیے مالک کی پیشگی رضامندی لازمی ہوگی۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونی کیشن شزا فاطمہ خواجہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن (ری آرگنائزیشن) (ترمیمی) بل کے نظرثانی شدہ مسودے میں واضح طور پر درج کیا گیا ہے کہ نجی اراضی پر رائٹ آف وے دینے سے قبل مالک کی اجازت حاصل کرنا ضروری ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ نئے مسودے میں ابہام دور کرنے کے لیے رائٹ آف وے، زمین کے اوپر اور زیر زمین انفراسٹرکچر، اور ٹیلی کمیونی کیشن آلات کی تنصیب سے متعلق اہم اصطلاحات کی واضح تعریف بھی شامل کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کا سابقہ مسودہ قومی اسمبلی نے چھ ترامیم کے ساتھ منظور کیا تھا، تاہم بعد ازاں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں اس کی بعض شقوں پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ 2006 میں بنایا گیا موجودہ قانون جدید دور کی ڈیجیٹل ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ترمیم کا متقاضی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان میں ڈیٹا کے استعمال میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث اسپیکٹرم کی گنجائش بڑھانے اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی کے ذریعے دستیاب اسپیکٹرم 274 میگا ہرٹز سے بڑھا کر تقریباً 750 میگا ہرٹز کر دیا گیا ہے، جبکہ 5G ٹیکنالوجی کے آغاز کے لیے فائبر نیٹ ورک، ٹیلی کام ٹاورز اور دیگر متعلقہ انفراسٹرکچر میں مزید سرمایہ کاری ناگزیر ہوگی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تقریباً 24 کروڑ آبادی کے باوجود اس وقت پاکستان میں فائبر ٹو ہوم کنکشنز کی تعداد 30 لاکھ سے بھی کم ہے، جبکہ حکومت آئندہ تین برسوں میں اسے بڑھا کر ایک کروڑ گھروں تک پہنچانے کا ہدف رکھتی ہے۔

وفاقی وزیر آئی ٹی نے رائٹ آف وے سے متعلق عوامی خدشات کا جواب دیتے ہوئے یقین دلایا کہ انٹرنیٹ کی سہولت کو ملک بھر میں وسعت دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے، تاہم اس عمل میں شہریوں کے بنیادی حقوق اور نجی املاک کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

اشتہار

یہ بھی پڑھیے

Back to top button