بسم اللہ الرحمن الرحیم

جموں و کشمیر

5 سال سے زائد عرصہ جیل میں قید کشمیری صحافی آصف سلطان ضمانت پر رہا

5 سال سے زائد جیل میں گزارنے والے مقبوضہ کشمیر کے ایوارڈ یافتہ صحافی دہشت گردی کے مقدمے میں عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد گھر واپس لوٹ آئے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کچھ عرصہ قبل بند کیے گئے میگزین کے لیے کام کرنے والے آصف سلطان کو پہلی بار اگست 2018 میں مطلوب دہشت گردوں کو پناہ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور جیل میں دنگا فساد کے الزام کے بعد ان پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے سخت قانون (یو اے پی اے) کے تحت مزید الزامات عائد کیے گئے تھے۔آصف سلطان کو فروری میں ضمانت دی گئی تھی لیکن دو دن بعد ہی ایکٹ کے تحت نئے الزامات پر دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔

آصف کے رشتہ دار اور کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے بتایا کہ انہیں اس ہفتے دوبارہ رہا کر دیا گیا ہے۔ایک رشتے دار نے انتقامی کارروائی کے خوف سے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ وہ آج گھر واپس آیا ہے لیکن ضمانت کی شرائط بہت سخت ہیں، اس پر عملاً خاندان سے باہر کسی بھی شخص سے بات کرنے پر پابندی ہے۔کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کے کنال ماجُمدار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پیغام میں کہا کہ آصف سلطان کو منگل کو ضمانت مل گئی ہے۔

اے ایف پی نے ضمانت کی عدالتی دستاویز دیکھی جس میں کہا گیا کہ سلطان کی نظر بندی کا کوئی مقصد پورا نہیں ہوا اور انہیں ضمانت سخت شرائط پر دی گئی۔آصف سلطان کے مقبوضہ کشمیر سے باہر سفر کرنے، مواصلاتی ایپلی کیشنز جیسے واٹس ایپ کے ساتھ ساتھ اور کسی اور کو اپنا فون استعمال کرنے کی اجازت دینے سے منع کیا گیا ہے۔کشمیری صحافیوں کا کہنا ہے کہ 2019 میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے خطے کی محدود خود مختاری کے خاتمے اور سخت حفاظتی پابندیاں نافذ کرنے کے بعد سے آزاد میڈیا کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔میڈیا کے نمائندوں کو انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا ہے یا پھر پولیس نے انہیں پوچھ گچھ کے لیے بار بار طلب کیا جبکہ اس دوران حکام نے آزاد کشمیر پریس کلب کو بھی بند کر دیا تھا۔

مزید پڑھیے   بھارتی حکومت  جموں وکشمیر میں میڈیا  کے خلاف کریک ڈاون جلد ختم کرے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس
Back to top button