

کراچی پاکستان کا معاشی اور ثقافتی دل ہے۔ یہ شہر نہ صرف صنعت و تجارت کے حوالے سے اپنی منفرد پہچان رکھتا ہے بلکہ یہاں صحافت کی تاریخ بھی نہایت درخشاں اور سنہری ہے۔ اسی شہر میں قائم سٹی پریس کلب کراچی ایک ایسا معتبر ادارہ ہے جس نے ہمیشہ شاندار صحافتی روایات کو زندہ رکھا اور صحافیوں کو یکجا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس حسن کارکردگی پر سٹی پریس کلب کراچی کے صدر/چیرمین نامور ہردلعزیز سئنیر صحافی جناب اسد سعید خان ، میڈم پروین خان اور اس ادارے کے جملہ عہدیداران اور اراکین زبردست خراج تحسین و آفرین کے مستحق ہیں۔ برسبیل تذکرہ راقم الحروف (راجہ نورالہی عاطف) اپنے لیے یہ ایک بہت بڑا اور منفرد اعزاز سمجھتاہے کہ قومی صحافت کے سرمایہء افتخار عزت مآب فیض انتساب ، ممتاز جرنلسٹ صدر/چیرمین سٹی پریس کلب کراچی جناب اسد سعید خان نے مجھے خوشاب/سرگودھا ڈویژن سے اس ادارے کے ساتھ اعزازی وابستگی سے سرفراز کیا ہے اور عظیم صحافتی روایات کے حامل اس ادارے کے دیگرجملہ عہدیداران و اراکین خصوصا” سید عبدالغفار اور ان کےساتھی مجھے جو برادرانہ عزت و احترام اور اپنائیت دیتے ہیں اس پر راقم سب کرم فرماوں کا صمیم قلب سے سراپا سپاس گزار ہے اور اپنے آپ کو ان محسن ہستیوں کی بے پایاں محبتوں، چاہتوں ،عزتوں اور عنایتوں کا مقروض سمجھتاہے۔
قارئین محترم !سٹی پریس کلب کراچی صرف ایک عمارت یا دفتر نہیں بلکہ صحافت کی درسگاہ ہے۔ یہاں مختلف ادوار میں نامور صحافی، ادیب، کالم نگار اور دانشور نہ صرف یکجا ہوتے رہے بلکہ اپنی تحریروں اور خیالات کے ذریعے معاشرے کی رہنمائی بھی کرتے رہے۔ اس ادارے نے ہر دور میں آزادیٔ صحافت کے چراغ کو روشن رکھا اور نوجوان صحافیوں کو تربیت اور حوصلہ فراہم کیا۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جمہوریت کے فروغ اور آزادی اظہار کے لیےسٹی پریس کلب کراچی نے مثالی کردار ادا کیا اور اس کے صحافی بھائ سب سے پہلے میدانِ عمل میں اُترے۔ اس کلب نے ہمیشہ قلم کی حرمت کا دفاع کیا اور معاشرتی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کا حوصلہ بڑھایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی یہ ادارہ جناب اسد سعید خان کی زیر قیادت جمہوری اقدار اور آزاد صحافت کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ ادارہ صحافیوں کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ہر مکتبۂ فکر اور ہر ادارے سے وابستہ صحافی یکجا ہوتے ہیں۔ یہاں نہ صرف صحافیوں کی فلاح و بہبود کے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں بلکہ صحافتی برادری کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں بھی یہ ادارہ بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ مختلف سیمنارز، ورکشاپس اور تربیتی نشستیں اس کلب کی شان میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔
آج کے جدید دور میں جب صحافت ڈیجیٹل میدانوں میں داخل ہو چکی ہے، سٹی پریس کلب کراچی اس بات کی مثال ہے کہ روایتی ادارے کس طرح جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکتے ہیں۔ آن لائن صحافت، ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا کے چیلنجز کے باوجود یہ ادارہ اپنی تاریخی اقدار اور اصولوں پر قائم ہے۔ انشاءاللہ مستقبل میں بھی یہ ادارہ صحافیوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔
سٹی پریس کلب کراچی صرف ایک صحافتی ادارہ نہیں بلکہ ایک ایسی تاریخ ہے جو قربانی، عزم، اتحاد اور آزادیٔ صحافت کے جذبے سے عبارت ہے۔ یہ کلب آنے والی نسلوں کے صحافیوں کے لیے ایک مثال ہے کہ کس طرح اصولوں پر قائم رہتے ہوئے صحافت کے وقار کو بلند کیا جا سکتا ہے۔















