بسم اللہ الرحمن الرحیم

مضامین

شہادتِ فاروقِ اعظمؓ — عدل، عظمت اور وفا کی لازوال داستان

اسلامی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی زندگی اور کردار قیامت تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ رہیں گے۔ ان عظیم ہستیوں میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا نام نمایاں ہے۔ آپ رسول اکرم ﷺ کے جلیل القدر صحابی، اسلام کے دوسرے خلیفہ، عشرۂ مبشرہ کے رکن اور تاریخِ انسانیت کے عظیم ترین حکمرانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کا دورِ خلافت عدل، انصاف، فتوحات، فلاحِ عامہ اور بہترین حکمرانی کے حوالے سے سنہری دور کہلاتا ہے۔

محرم الحرام کا آغاز امتِ مسلمہ کو کئی اہم تاریخی واقعات کی یاد دلاتا ہے۔ انہی میں ایک عظیم واقعہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بھی ہے، جس نے اسلامی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔

شہادت کی تمنا اور دعا کی قبولیت

حضرت عمر رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ سے ایک خصوصی دعا کیا کرتے تھے:

"اے اللہ! مجھے اپنی راہ میں شہادت عطا فرما اور میری موت اپنے رسول ﷺ کے شہر میں نصیب فرما۔”

یہ دعا سن کر بعض لوگ حیران ہوتے کہ مدینہ منورہ، جو امن کا گہوارہ تھا، وہاں شہادت کیسے ممکن ہوگی؟ مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کو جس انداز سے قبول فرماتا ہے، وہ انسانی تصور سے بالاتر ہوتا ہے۔ آخرکار یہ دعا حرف بہ حرف پوری ہوئی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ ہی میں شہادت کا عظیم مرتبہ نصیب ہوا۔

قاتل کے دل میں پلنے والی دشمنی

مدینہ میں ابو لؤلؤ فیروز نامی ایک مجوسی غلام رہتا تھا جو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا۔ ایک دن اس نے اپنے محصول میں کمی کی درخواست حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کی۔ امیرالمؤمنین نے معاملے کا جائزہ لینے کے بعد فرمایا کہ مقرر کردہ رقم اس کی مہارت اور آمدنی کے لحاظ سے زیادہ نہیں۔

یہ جواب ابو لؤلؤ کو ناگوار گزرا۔ اس نے دل میں انتقام کی آگ پال لی اور ایک ہولناک منصوبہ تیار کر لیا۔

وہ المناک صبح

26 ذوالحجہ 23 ہجری کی صبح تھی۔ حسبِ معمول حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں فجر کی نماز پڑھانے کے لیے تشریف لائے۔ نماز شروع ہو چکی تھی اور نمازی خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ کے حضور کھڑے تھے کہ اچانک ابو لؤلؤ دو دھاری خنجر لیے آگے بڑھا۔

اس نے یکے بعد دیگرے کئی وار کیے، جن میں ایک گہرا زخم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ناف کے نیچے لگا۔ آپ شدید زخمی ہو کر زمین پر گر پڑے، لیکن اس نازک ترین لمحے میں بھی امت اور نماز کی فکر آپ کے دل میں موجود تھی۔ آپ نے فوراً فرمایا:

"عبدالرحمن بن عوف کو آگے بڑھاؤ تاکہ وہ نماز مکمل کرائیں۔”

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر مختصر قراءت کے ساتھ نماز مکمل کرائی۔

قاتل کا انجام

حملے کے بعد ابو لؤلؤ مسجد سے فرار ہونے کی کوشش کرنے لگا اور راستے میں خنجر کے وار کرکے کئی مسلمانوں کو زخمی اور بعض کو شہید بھی کر دیا۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ اب گرفتاری سے بچنا ممکن نہیں تو اس نے خود ہی اپنے خنجر سے خودکشی کر لی۔

یوں دنیا میں ہی اپنے انجام کو پہنچ گیا، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ صبر و استقامت کے ساتھ اپنے رب کی رضا کے منتظر رہے۔

آخری ایام اور امت کی فکر

شدید زخمی حالت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو گھر منتقل کیا گیا۔ طبیب نے معائنہ کیا اور دودھ پلایا گیا، مگر دودھ زخم سے باہر نکل آیا۔ طبیب نے عرض کیا کہ اب زندگی کی امید بہت کم ہے اور وصیت کر لینی چاہیے۔

یہ سن کر بھی آپ کے چہرے پر اضطراب نہیں آیا۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی رضا پر سرِ تسلیم خم کر دیا۔ اس موقع پر آپ نے سب سے پہلے یہ جاننا چاہا کہ قاتل کون ہے۔ جب بتایا گیا کہ ایک مجوسی غلام نے حملہ کیا ہے تو آپ نے فرمایا:

"الحمد للہ! میری موت ایسے شخص کے ہاتھوں نہیں ہوئی جو اسلام کا دعویٰ کرتا ہو۔”

یہ الفاظ آپ کے اخلاص، بصیرت اور امت کے بارے میں حسنِ ظن کی روشن مثال ہیں۔

روضۂ رسول ﷺ کے پہلو میں دفن ہونے کی خواہش

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی دیرینہ آرزو تھی کہ انہیں رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ آپ نے اپنے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس اجازت لینے کے لیے بھیجا۔

آپ نے فرمایا:

"امیرالمؤمنین نہ کہنا، صرف عمر بن خطاب کی طرف سے اجازت طلب کرنا۔”

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا:

"میں نے یہ جگہ اپنے لیے رکھی تھی، لیکن آج عمر کو اپنے اوپر ترجیح دیتی ہوں۔”

یہ خبر سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بے حد خوش ہوئے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔

خلافت کے مستقبل کا فیصلہ

اپنے آخری لمحات میں بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے امت کے مستقبل کو نظر انداز نہیں کیا۔ آپ نے خلافت کے معاملے کو مشاورت کے ذریعے طے کرنے کے لیے چھ جلیل القدر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پر مشتمل شوریٰ قائم کی، جن میں حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم شامل تھے۔

بعد ازاں اسی شوریٰ کے فیصلے کے مطابق حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تیسرے خلیفۂ راشد منتخب ہوئے۔

شہادت اور وصال

زخم لگنے کے تقریباً تین دن بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یکم محرم 24 ہجری (بعض روایات کے مطابق ذوالحجہ 23 ہجری کے آخری دنوں) میں وفات پائی اور شہادت کا عظیم مرتبہ حاصل کیا۔

آپ کی عمر تقریباً 63 برس تھی، وہی عمر جس میں رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔

آخری آرام گاہ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو مسجد نبوی کے حجرۂ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آج بھی دنیا بھر سے آنے والے مسلمان روضۂ رسول ﷺ پر حاضری دیتے وقت ان دو عظیم ہستیوں کے ساتھ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بھی سلام پیش کرتے ہیں۔

شہادتِ فاروق اعظمؓ کا پیغام

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی اور شہادت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حقیقی عظمت اقتدار، دولت یا طاقت میں نہیں بلکہ عدل، تقویٰ، خدمتِ خلق اور اللہ تعالیٰ کی رضا میں ہے۔ آپ نے ثابت کیا کہ ایک حکمران اپنے عہدے کے باوجود عاجزی اختیار کر سکتا ہے، رعایا کے حقوق کا محافظ بن سکتا ہے اور آخری سانس تک امت کی بھلائی کی فکر کر سکتا ہے۔

یکم محرم الحرام ہمیں نہ صرف نئے اسلامی سال کا آغاز یاد دلاتا ہے بلکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسی عظیم شخصیت کی قربانی، عدل اور بے مثال کردار کی بھی یاد تازہ کرتا ہے۔ آپ کی حیاتِ مبارکہ اور شہادت رہتی دنیا تک اہلِ ایمان کے لیے ہدایت، حوصلے اور عمل کا روشن مینار بنی رہے گی۔

اشتہار

یہ بھی پڑھیے

Back to top button