
پاکستان اور اٹلی کے درمیان 2 کروڑ یورو کے رعایتی قرضے کا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی کے درمیان 2 کروڑ یورو (20 ملین یورو) مالیت کے رعایتی قرضے کے معاہدے پر دستخط کر دیے گئے۔
یہ قرض پاکستان کے ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (TVET) قومی اصلاحاتی پروگرام کے تحت زرعی شعبے میں پیشہ ورانہ صلاحیت سازی اور توسیعی خدمات کے منصوبے کے لیے فراہم کیا جائے گا۔
اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں سیکریٹری اقتصادی امور محمد ہمایوں کریم اور پاکستان میں اٹلی کی سفیر مارلینا آرمیلین نے معاہدے پر دستخط کیے۔
اس منصوبے کا مقصد کسانوں، زرعی توسیعی عملے، تربیت کاروں اور دیگر متعلقہ افراد کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔ اس کے لیے جدید اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ تربیتی پروگرام متعارف کرائے جائیں گے، جن سے زرعی پیداوار میں اضافہ، پائیدار کاشتکاری کو فروغ اور کسانوں کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی۔
منصوبے کے تحت زیتون، پستہ، کھجور، مشروم، چیری، انگور، آڑو اور بادام سمیت مختلف فصلوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس سلسلے میں جدید زرعی طریقوں سے متعلق اٹلی کی مہارت سے استفادہ کیا جائے گا، جبکہ پاکستان کی وسیع زرعی صلاحیتوں کو بھی بروئے کار لایا جائے گا۔
یہ منصوبہ پاکستان آئل سیڈ ڈیپارٹمنٹ صوبائی محکمہ زراعت کے تعاون سے نافذ کرے گا۔
حکومت کے مطابق اس منصوبے سے دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، کسانوں کی آمدن میں اضافہ ہوگا، فصلوں کی برداشت کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی آئے گی، کسان تنظیمیں مضبوط ہوں گی اور پاکستان کے زرعی شعبے کی مسابقتی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئے گی۔















