بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور لوسرن سمٹ پاکستان کے سفارتکاری پر اعتماد کی عکاسی ہیں، دفتر خارجہ

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad Memorandum of Understanding) اور لوسرن سمٹ (Lucerne Summit) تنازعات اور اختلافات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کے مکالمے اور سفارتکاری پر غیر متزلزل اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے اپنے تعمیری کردار پر مختلف ممالک، شراکت داروں اور عالمی برادری کی جانب سے ملنے والی مثبت پذیرائی اور حوصلہ افزا بیانات کا خیرمقدم کرتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی کاوشوں کا اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی برادری پاکستان کے امن، سلامتی، استحکام اور بامعنی مکالمے کے فروغ کے عزم پر اعتماد کرتی ہے۔ انہوں نے ان تمام ممالک اور شراکت داروں کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کی۔

طاہر اندرابی نے اس موقع پر پاکستانی میڈیا کے ذمہ دارانہ اور مثبت کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے پورے عمل کے دوران پیشہ ورانہ مہارت، رازداری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، جو کسی بھی معتبر ثالثی یا سفارتی عمل کی کامیابی کے لیے ناگزیر عناصر ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا دورۂ پاکستان تاریخی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ جنگ کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے کے دوران دونوں ممالک نے امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا، جو اس دورے کا سب سے اہم نتیجہ تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس دورے کے دوران پاکستان کے ثالث اور سہولت کار کے کردار کی دوبارہ توثیق ہوئی جبکہ ایرانی قیادت نے بھی پاکستان پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا، جس پر پاکستان ان کا شکر گزار ہے۔

طاہر اندرابی کے مطابق یہ دورہ نہ صرف تاریخی اعتبار سے اہم تھا بلکہ اس نے پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

آبنائے ہرمز سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم بحری گزرگاہ سمجھتا ہے اور پاکستان کی خواہش ہے کہ یہ راستہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھلا اور محفوظ رہے۔

افغانستان سے سفارتی روابط کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے 2021 سے 2025 تک افغانستان کے ساتھ سفارتکاری اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیے رکھا، تاہم 2025 کے اختتام تک سیکیورٹی صورتحال پاکستان کے صبر کی حد سے تجاوز کر گئی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر سفارتی عمل کو دوبارہ مؤثر انداز میں آگے بڑھانا ہے تو افغان حکومت کی جانب سے قابلِ تصدیق اور ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ یہ یقین دہانی حاصل ہو سکے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔

ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

اشتہار

یہ بھی پڑھیے

Back to top button