
15اگست، کشمیریوں کا یوم سیاہ۔ مجاہد ملت اور اسیر زندان پیر عبدالصمد انقلابی
15اگست بھارت کا یوم آزادی ہے،جو کنٹرول لائن کے دونوں طرف اور دُنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے یوم سیاہ کے طورپر منایا جاتا ہے۔ یوم سیاہ منانے کامقصد عالمی برادری کو پیغام دینا ہے کہ بھارت نے طاقت کے زور پر کشمیریوں کا ناقابل ِ تنسیخ حق خودارادیت سلب کر رکھا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکام نے سیکیورٹی کے نام پر وسطیٰ، شمالی اور جنوبی کشمیر کے تمام علاقوں میں سخت پابندیاں عائد کررکھی تھیں تاکہ کشمیری عوام بھارت کے خلاف مظاہرے نہ کرسکیں۔ سینئر حریت رہنما و مجاہد ملت اور اسیر زندان پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے کشمیریوں کے ساتھ جو کھلواڑ کیا ہے، کشمیریوں کے ساتھ پاکستان اور تمام عالم اسلام و دیگر ممالک نے اسے رد کر دیا ہے۔ کشمیریوں پر مظالم کا یہ حال ہے کہ حریت قیادت نظر بند ہے۔ کشمیریوں کو عید کی نماز کی اجازت نہیں ملتی۔
سینئر حریت رہنما ومجاہد ملت اور اسیر زندان پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا کہ کشمیر کے عوام سات دہائیوں سے پاکستان کے یوم آزادی کو جوش و خروش سے منا کر یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ رکھے ہوئے ہیں۔ ہر سال 14 اگست کو مقبوضہ وادی میں پاکستانی پرچم لہرائے جاتے ہیں۔ پوری وادی میں سبز ہلالی پرچموں کی بہار ہوتی ہے۔ بھارت مقبوضہ وادی میں آٹھ لاکھ فوج رکھ کر بھی کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو ختم نہیں کر سکا۔ کشمیری عوام نے بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منا کر اقوام عالم پر واضح کر دیا ہے کہ وہ بھارت سے نفرت کرتے ہیں۔ کشمیری عوام نے بھارتی جبری قبضے کے خلاف احتجاج کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی طرح بھی بھارتی تسلط کو قبول نہیں کریں گے۔
سینئر حریت رہنما ومجاہد ملت اور اسیر زندان پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا کہ 14اگست کو کشمیریوں کا جوش و جذبہ پاکستانیوں سے بھی کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ اس روز سبز ہلالی پرچموں کی بہار عجب سماں باندھ دیتی ہے۔ مساجد میں نماز فجر، نماز ظہر، عصر اور مغرب کے بعد پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے خصوصی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ بچے سبز ٹوپیاں پہنتے ہیں اور یوں گمان ہوتا ہے جیسے کشمیری پاکستان کا نہیں اپنا یوم آزادی منا رہے ہیں۔
سینئر حریت رہنما ومجاہد ملت اور اسیر زندان پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا کہ کشمیریوں کی پاکستان سے محبت اٹوٹ ہے۔ پاکستانیوں سے زیادہ پاکستان سے پیار کرنے والے ان لوگوں نے وفا کے ایسے دیپ جلائے ہیں، جنہیں وقت کی بڑی سے بڑی آندھی بھی نہ بجھا سکی۔اس محبت کی کشمیریوں نے جو قیمت چکائی اس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں نے وادی کشمیر میں پولیس کی بلا اشتعال فائرنگ سے نہتے مظاہرین کی ہلاکتوں اورکرفیو میں عام لوگوں کو دیکھتے ہی گولیاں مارنے کے احکامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے اس بارے میں سنجیدہ اقدامات کرنے پر زور دیا گیا ہے، مگر بھارتی حکومت نے ہمیشہ کی طرح ان احکامات کو بھی ہوا میں اڑا دیا۔
تحریک آزادی کشمیر کے سینئر رہنما و مجاہد ملت اور اسیر زندان پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا ہے کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام کو کرنا ہے۔ بھارت کشمیریوں کو حق خود ارادیت سے محروم کرناچاہتا ہے اور اسلامی مما لک کی تنظیم مکمل یکجہتی سے کشمیری مسلمانوں کی تحریک آزادی کی حمایت کرے تو نہ صرف پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہوگی، بلکہ دُنیا بھر میں مسلمان جہاں جہاں بھی آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں انہیں تقویت حاصل ہوگی اور بھارت کشمیری مجاہدین آزادی کو دہشت گرد قرار نہیں دے سکے گا۔













