بسم اللہ الرحمن الرحیم

صحت

سندھ میں بریسٹ فیڈنگ ویک کا آغاز، فارمولا دودھ کی تشہیر کے خلاف کارروائیاں تیز، بچوں کے لئے محفوظ اسپتال بڑھانے کا اعلان

حکومت سندھ نے عالمی بریسٹ فیڈنگ ویک کے آغاز پر فارمولا دودھ کی تشہیر اور مارکیٹنگ کے خلاف قانون پر مزید سختی سے عملدرآمد، بچوں کے لئے محفوظ اسپتالوں کے نیٹ ورک میں توسیع اور ماؤں کو دودھ پلانے کے فروغ کے لیے آگاہی مہم تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔

صوبائی وزیر صحت و بہبود آبادی ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے جمعے کے روز اپنے پیغام میں کہا کہ نوزائیدہ بچوں کی صحت اور اموات میں کمی حکومت سندھ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اسی لیے بریسٹ فیڈنگ کے فروغ کے لیے جاری اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ پروٹیکشن اینڈ پروموشن آف بریسٹ فیڈنگ اینڈ ینگ چائلڈ نیوٹریشن ایکٹ پر سختی سے عمل جاری رکھا جائے گا اور تین سال تک کے بچوں کے لیے فارمولا دودھ، بریسٹ ملک سبسٹی ٹیوٹس اور بچوں کے لئے ڈبہ بند غذا کی تشہیر یا مارکیٹنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے اقدامات کا مقصد ماؤں کو غیر ضروری طور پر فارمولا دودھ کی طرف راغب کرنے والے تجارتی رجحانات کی حوصلہ شکنی اور بچوں کے قدرتی حق، یعنی ماں کے دودھ، کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے بتایا کہ صوبے کے تدریسی، ضلعی اور علاقائی اسپتالوں میں بیبی فرینڈلی ہاسپٹل انیشی ایٹو کو وسعت دی جا رہی ہے تاکہ پیدائش کے فوراً بعد بچے کو ماں کا دودھ پلانے، ماں اور بچے کے فوری جسمانی رابطے اور غیر ضروری فارمولا فیڈنگ کی حوصلہ شکنی جیسے اقدامات پر مکمل عملدرآمد ہو۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے تین ہزار سے زائد ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے کو بریسٹ فیڈنگ کونسلنگ، لیکٹیشن مینجمنٹ اور زچہ کی غذائیت کے حوالے سے تربیت بھی دی جا چکی ہے۔

وزیر صحت نے کہا کہ پیدائش کے بعد پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلانا اور بعد ازاں مناسب گھریلو غذا کے ساتھ دودھ پلانے کا سلسلہ جاری رکھنا بچوں کو نمونیا، اسہال اور غذائی قلت سمیت کئی خطرناک بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جبکہ حفاظتی ٹیکوں کے ساتھ یہ بچوں کی بہتر نشوونما اور صحت کی ضمانت بھی ہے۔

یونیسیف نے بھی عالمی ہفتۂ ماں کا دودھ کے موقع پر کہا ہے کہ بریسٹ فیڈنگ صرف ماں کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یونیسیف سندھ کے چیف فیلڈ آفس پریم بہادر چند کے مطابق مؤثر پالیسیوں اور مضبوط معاونت کے ذریعے ہر بچے کو زندگی کا صحت مند آغاز فراہم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یونیسیف اگست کے پورے مہینے میں ملک بھر میں آگاہی، کمیونٹی روابط اور میڈیا سرگرمیوں میں تعاون کرے گا تاکہ ماں کا دودھ پلانے کے فروغ کے لیے حکومت، طبی ماہرین، کمیونٹیز اور خاندانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button