
وزیراعظم پاکستان کا چین کیساتھ اقتصادی، صنعتی اور بنیادی ڈھانچے کو مزید بنانے کے عزم کا اعادہ
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے چین کے دورے کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی، صنعتی اور بنیادی ڈھانچے کے تعاون کو سی پیک فیز ٹو کے تحت مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
بیجنگ میں مختلف اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے دوران وزیرِ اعظم نے چین کی بڑی کمپنیوں کے نمائندہ وفود سے بات چیت کی اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیرِ اعظم نے ایف اے ایم سن (FAMSUN) کے سی ای او ژینگ جن چن کی قیادت میں آنے والے وفد سے ملاقات کی اور پاکستان کی زرعی ترقی، اناج کے ذخیرہ، فیڈ پروڈکشن اور فوڈ سیکیورٹی کے شعبے میں کمپنی کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے پوسٹ ہارویسٹ نقصانات میں کمی کے لیے پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ سہولیات کے قیام کی دعوت بھی دی۔
انہوں نے شاندونگ زنشو گروپ کارپوریشن کے چیئرمین ہو جیان شن کے وفد سے بھی ملاقات کی اور پاکستان میں میری ٹائم ڈویلپمنٹ، بیٹری مینوفیکچرنگ، معدنیات کی پروسیسنگ اور صنعتی تعاون کے منصوبوں میں گروپ کی توسیع کا خیرمقدم کیا۔
وزیرِ اعظم نے چائنا کمیونیکیشنز کنسٹرکشن کمپنی اور چائنا روڈ اینڈ برج کارپوریشن کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقات کی اور کہا کہ پاکستان کریکرم ہائی وے، رشکئی اسپیشل اکنامک زون اور دیگر بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں ان کمپنیوں کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
انہوں نے ایم ایل ون، کریکرم ہائی وے کی ری الائنمنٹ اور دیگر کنیکٹیویٹی منصوبوں کو سی پیک فیز ٹو کے تحت تیزی سے مکمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
چینی کمپنیوں نے پاکستان کی معیشت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے زراعت، صنعت، لاجسٹکس، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مزید سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی۔
وزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ان تمام فیصلوں پر فوری اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔















