بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

ریاست کےمعاملات دھمکیوں سےطے نہیں ہوتے،مولانا فضل الرحمان

سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پھر آپریشن کا کہا جارہا ہے، ریاستوں کےمعاملات عجلت سےطےنہیں ہوتے۔سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امن وامان کےحوالےسےصورتحال بہت گھمبیرہے، مسلح لوگ کئی علاقوں میں پھیل چکےہیں،مغرب کےبعد ہمارےجنوبی اضلاع میں پولیس تھانوں میں محصورہوکررہ جاتی ہے، سوات سےلیکروزیرستان تک لوگوں نےبہت قربانیاں دیں، جنگ کےدوران قبائلی لوگوں کوبھیک مانگنےپرمجبورکردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ تباہ حال فاٹا میں لوگوں کےگھرتباہ ہوچکےہیں، فاٹا کےعوام کا معاشی،عزت نفس کا بھی قتل کیا گیا، ایک بارپھراعلان ہوتا ہےکہ پھرآپریشن کریں گے، ایک دفعہ آہنی باڑلگائی گئی کہ کوئی افغانستان نہ جاسکے، ہرفیصلہ اشتعال کی بنیاد پرکیا گیا۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کبھی ریاستوں کےمعاملات عجلت سےطےنہیں ہوتے، ریاست کےمعاملات دھمکیوں سےطے نہیں ہوتے، ملک میں دہشت گردی کےواقعات ہورہےہیں، اسٹیبلشمنٹ سےلوگ جب دہشت گردی واقعات کا پوچھتےہیں توکہتےہیں افغانستان سےآرہےہیں۔

سربراہ جے یو آئی ف کا کہنا تھا کہ افغانستان سے ایک کمٹمنٹ لے کر آیا تھا اور مسلح تنظیموں کو پرامن راستہ دینے پر اتفاق ہوا تھا ، آج فاٹا کے جرگہ نے ساری صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ، ہمیں اس بارے میں میکزم بنانا ہوگا، افغانستان کا استحکام پاکستان کیلئے فائدہ مند ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اورافغانستان کےعوام کی امیدوں کوخاکسترکیا جارہا ہے، ہم توپورے پاکستان کوامارات اسلامیہ بنانا چاہتےہیں، مشرف اوراس کا تسلسل یہ ہےہمارے حکمران، اب حکومت اوراپوزیشن سائیڈ بھی ہائبرڈ ہے، فیصلےکون کرتا ہے؟ عزم استحکام کےاعلان نےکنفوژن پیدا کردی ہے، عزم استحکام کی بسم اللہ ہی عدم استحکام سےہوگئی، ہم ملک کومشکلوں سےنکالنا چاہتےہیں۔

مزید پڑھیے  توہین عدالت کی سزا پانے والے وفاقی سیکرٹری غیر مشروط معافی مانگنے پر رہا

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عزم استحکام کےحوالےسےجوپارلیمنٹ انہوں نےبنائی اس کوبھی اعتماد میں نہیں لیا گیا، آپریشن کی ماضی کی روایات توناکامی کےسوا کچھ نہیں، اسد قیصرجب رابطہ کریں گےتوپھربات کروں گا، جن کےلیےسب کچھ کیا گیا وہ بھی یہ کہنےپرمجبورہوگئے،شاید ضرورت سےزیادہ ہوگیا۔جے یو آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ایران سےدوستی ہوسکتی ہےتوافغانستان سےکیوں نہیں،جس کوآپ حکومت کہتےہیں میں اس کوحکومت نہیں کہتا۔مولانا فضل الرحمان نے آخر میں قبل ازوقت الیکشن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ میں تودوبارہ الیکشن چاہتا ہوں جس میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت نہ ہو۔

Back to top button