بسم اللہ الرحمن الرحیم

جموں و کشمیر

پیر عبدالصمد انقلابی کا اقوام متحدہ (UN) کی جانب سے کشمیر کی متنازع حیثیت کے اعادہِ موقف کا خیرمقدم

کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے سربراہ و مجاہد ملت اور اسیرِزندان پیر عبدالصمد انقلابی نے اقوام متحدہ (UN) کی جانب سے کشمیر کی متنازع حیثیت کے اعادہِ موقف کا خیرمقدم کیا ہے اور عالمی ادارے پر زور دیا ہے کہ وہ صرف بیانات تک محدود رہنے کے بجائے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے عملی اقدامات کرے۔ سرینگر سے جاری ایک حالیہ بیان میں، سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جموں کشمیر کا مسئلہ کئی دہائیوں سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ سلامتی کونسل کی قراردادیں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کرتی ہیں اور اس دیرینہ تنازع کے پرامن حل کا فریم ورک فراہم کرتی ہیں۔

سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی کے مطابق، یہ قراردادیں محض تاریخی دستاویزات نہیں ہیں بلکہ عالمی برادری کے وعدوں اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے اقوام متحدہ کے نظام کی ساکھ کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی ہی قراردادوں پر عمل درآمد کرنے میں ناکامی اقوام متحدہ کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے۔اور دنیا کے دیگر دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے۔

سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 4 ستمبر 2026 کو منظور ہونے والی "کریکٹ دی میپ” (نقشے درست کرو) قرارداد کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ اس قرارداد کے تحت اقوامِ متحدہ کے جاری کردہ نئے معیاری عالمی نقشے میں کشمیر کو ایک متنازع علاقہ دکھایا گیا ہے اور لائن آف کنٹرول (LoC) کو نقطہ دار (dotted) لکیر سے نمایاں کیا گیا ہے۔ اگرچہ بھارت نے جغرافیائی تناسب کی بنیاد پر اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، تاہم بعد میں بھارتی وزارتِ خارجہ نے بیان جاری کیا کہ اس کا یہ ووٹ کشمیر پر ان کے ریاستی مؤقف کی تبدیلی یا کسی مخصوص سرحد کی توثیق نہیں ہے۔ ، سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے اس نقشے کو کشمیر کی بین الاقوامی متنازع حیثیت کی ایک اور بڑی عالمی تائید قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button