بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

پاکستان کے جائز آبی حصے کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اور ضروری اقدام اٹھایا جائے گا، کور کمانڈرز کانفرنس

کور کمانڈرز کانفرنس نے حکومتِ پاکستان کی ہدایات اور عوامی امنگوں کے مطابق اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کے جائز آبی حصے کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اور ضروری اقدام اٹھایا جائے گا۔

یہ عزم آج راولپنڈی میں چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس میں کیا گیا۔

کانفرنس نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کے حالیہ بیانات کا جائزہ لیتے ہوئے 24 اپریل 2025 کو قومی سلامتی کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کی توثیق کی۔

فورم نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی یکطرفہ پالیسیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔

کانفرنس نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی غیر متزلزل سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت دیا جائے۔

کور کمانڈرز نے افغان طالبان کے زیر انتظام علاقوں کو بھارت کی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد گروہوں، جن میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان شامل ہیں، کی جانب سے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

فورم نے کہا کہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام اسی صورت ممکن ہے جب افغان طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں کو بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد عناصر کے استعمال سے روکا جائے، جس کی ذمہ داری افغان طالبان حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ کانفرنس نے واضح کیا کہ پاکستان کو دہشت گردی سے اپنے عوام کے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے اور پاک افواج آپریشن "غضبُ الٰحق” کے تحت انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رکھیں گی۔

کانفرنس نے دہشت گردی کے خلاف عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ شورش زدہ علاقوں میں مؤثر طرزِ حکمرانی، عوامی خدمت اور فلاح و بہبود کے نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کا خاتمہ کیا جا سکے۔

فورم نے کہا کہ "معرکۂ حق” میں دشمن کو جامع شکست کے بعد پاکستان کے خلاف بیرونی حمایت یافتہ ہائبرڈ وارفیئر اور گمراہ کن پروپیگنڈے میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ کانفرنس نے ریاستی سرپرستی میں دہشت گرد پراکسیز کی مالی معاونت اور سہولت کاری کی سخت مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی ہر کوشش کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔

اجلاس میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا اور علاقائی امن، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے فروغ میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا گیا۔ فورم نے بین الاقوامی قوانین کے احترام، تنازعات کے پرامن حل اور علاقائی تعاون کے فروغ کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

کانفرنس نے ملک کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال، پاک افواج کی آپریشنل تیاری، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور جنگی استعداد پر اطمینان کا اظہار کیا۔

اجلاس کے اختتام پر پاک افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دہشت گردی کے خلاف جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے معصوم شہریوں کے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ان کی قربانیاں پاکستان کی سلامتی، اتحاد اور استحکام کی بنیاد ہیں۔

اپنے اختتامی خطاب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کمانڈرز کو ہدایت کی کہ بدلتی ہوئی جنگی حکمت عملی کے مطابق کثیرالجہتی عسکری تبدیلی (Multi-Domain Transformation Plan) پر تیزی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ روایتی، غیر روایتی اور ہائبرڈ خطرات سے نمٹنے کے لیے ہر سطح پر اعلیٰ ترین چوکسی، آپریشنل تیاری اور پیشہ ورانہ مہارت برقرار رکھی جائے تاکہ پاکستان کی خودمختاری اور قومی مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اشتہار

یہ بھی پڑھیے

Back to top button