
پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کی غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت، فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ
پاکستان سمیت آٹھ اسلامی ممالک نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جاری کارروائیوں، بالخصوص صحت کی سہولیات اور طبی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے آج ایک مشترکہ بیان میں غزہ میں شہری تنصیبات پر حملوں اور خواتین و بچوں سمیت شہریوں کی مسلسل ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون، بالخصوص بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ان خلاف ورزیوں کا تسلسل اسرائیل کی بین الاقوامی قانون اور غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے کے تحت ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ شہریوں کا تحفظ، طبی مراکز اور صحت و انسانی ہمدردی کے شعبے سے وابستہ عملے کی حفاظت، نیز غزہ بھر میں انسانی امداد، طبی سامان اور ریلیف کی فوری، محفوظ اور بلا رکاوٹ فراہمی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریاں ہیں، جن پر کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ غزہ میں جاری اسرائیلی اقدامات کو مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملوں، غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور مقبوضہ بیت المقدس کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی یکطرفہ کوششوں سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ وزرائے خارجہ کے مطابق یہ تمام اقدامات دو ریاستی حل کو نقصان پہنچانے اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرنے کی منظم پالیسی کا حصہ ہیں۔
مشترکہ بیان میں عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی انسانی قانون اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر عمل درآمد کا پابند بنانے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کرے، ذمہ دار عناصر کا احتساب یقینی بنائے، شہریوں کے تحفظ کو ممکن بنائے اور مستقل جنگ بندی کی راہ ہموار کرے۔
وزرائے خارجہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے الحاق، ان پر اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنے یا فلسطینی عوام کو جبری بے دخل کرنے کی کسی بھی کوشش کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ منصفانہ اور پائیدار امن کا واحد راستہ ایک سنجیدہ سیاسی عمل ہے، جو 1967ء کی سرحدوں کی بنیاد پر مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بناتے ہوئے ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام پر منتج ہو۔















