
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت مستقبل کے مذاکرات کے لیے ایک قابلِ اعتماد فریم ورک ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” (Islamabad Memorandum of Understanding) کو ایک قابلِ اعتماد، جامع اور دور اندیش دستاویز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مستقبل کے مذاکرات کے لیے ایک مضبوط فریم ورک فراہم کرتی ہے اور دونوں فریقین کے لیے قابلِ قبول ہے۔
غیر ملکی نشریاتی ادارے العربیہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسحاق ڈار نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تکنیکی سطح کے مذاکرات کا مقصد حال ہی میں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔
پاکستان کے تاریخی ثالثی کردار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں 47 برس بعد دونوں ممالک پہلی بار براہِ راست بات چیت کی میز پر آئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ثالثی کی کوششوں کی حمایت کی اور مذاکرات کی کامیابی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ معاہدے پر دستخط کرنے والے فریقین کے ارادوں پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض اہم معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات کاروں کو 30 دن کا وقت دیا گیا ہے، جبکہ وسیع تر معاہدہ 60 دن کے اندر مکمل ہونے کی توقع ہے، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
نائب وزیراعظم نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت کو 28 فروری سے قبل کی صورتحال پر بحال کیا جانا چاہیے، جب کشیدگی کا آغاز ہوا تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ 60 روز تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کی ٹرانزٹ یا سروس فیس عائد نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مدت کی ضمانت دی جا چکی ہے اور اس دوران فریقین علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر مختلف امور کو حل کریں گے۔
حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے جاری مذاکراتی عمل کے بارے میں اسحاق ڈار نے بتایا کہ اس وقت تین تکنیکی کمیٹیاں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں مصروف ہیں۔ یہ کمیٹیاں ایران کے جوہری پروگرام، منجمد ایرانی فنڈز اور لبنان کی صورتحال سے متعلق امور پر بات چیت کر رہی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے اور تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت بھی بحال ہونا شروع ہو گئی ہے، جو اس معاہدے کے ابتدائی ثمرات ہیں















