بسم اللہ الرحمن الرحیم

تجارت

وفاقی بجٹ 2026-27 ملکی اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا، محمد اورنگزیب

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 2026-27 ملک کی اقتصادی ترقی کو مزید آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے دستیاب مالی گنجائش کو زیادہ سے زیادہ ترقی اور معاشی استحکام کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔

اسلام آباد میں بجٹ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ کو مختلف حلقوں کی جانب سے مثبت ردِعمل ملا ہے، جو اس بات کا اظہار ہے کہ ملک کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور عوام کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات شامل کیے گئے ہیں، جن میں سپر ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس سے متعلق فیصلے بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے تاکہ برآمد کنندگان کو ساڑھے چار فیصد شرح پر مالی سہولتیں میسر رہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت خام مال اور درمیانی درجے کی اشیاء کی لاگت کم کر کے ملکی برآمدات کو عالمی سطح پر زیادہ مسابقتی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے زرعی شعبے کو حکومت کی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے بتایا کہ زرعی قرضوں کا حجم دو ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ زرعی آلات اور مشینری کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی، اضافی کسٹم ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے تاکہ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور پیداواری صلاحیت کو فروغ دیا جا سکے۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور تعمیراتی شعبے کو بھی ٹیکس ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے خودکار نظام اور مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ انسانی مداخلت کم ہو اور شفافیت و کارکردگی میں اضافہ ہو۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے اس موقع پر کہا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ جامع اور عوام دوست ہے اور اس میں معاشرے کے مختلف طبقات کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے عوام کو ریلیف دینے کا وعدہ پورا کیا ہے اور بجٹ ملک کو ترقی کی نئی راہ پر گامزن کرے گا۔ ان کے بقول ایف بی آر میں کی جانے والی اصلاحات تاریخی اور غیر معمولی نوعیت کی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ترقیاتی بجٹ میں ملک کے پسماندہ علاقوں میں قائم تعلیمی اداروں کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بجٹ کو عوام دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تنخواہ دار طبقے، صنعتکاروں، برآمد کنندگان اور تعمیراتی شعبے کے مفادات کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ پٹرولیم لیوی میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا گیا۔

اس موقع پر سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے بتایا کہ 2022 اور 2025 کے ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کر دیا گیا ہے، جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد اضافہ انہی الاؤنسز کے انضمام کے بعد نافذ ہوگا۔

اشتہار

یہ بھی پڑھیے

Back to top button