
اسمارٹ ٹیکسیشن دیہی معیشت کی بہتری کے لیے کلیدی ہے: رانا تنویر
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کو غذائیت، جدت اور دیہی معیشت کے فروغ کے لیے اسمارٹ ٹیکسیشن کی پالیسی اپنانا ہوگی۔وہ اسلام آباد میں سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (SDPI) کے زیر اہتمام منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جس کا مقصد پاکستان میں مشروبات اور جوس مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے نظام کو بہتر اور متوازن بنانا تھا۔
اجلاس میں موجودہ ٹیکس ڈھانچے کے معاشی، غذائی، صنعتی اور زرعی پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا اور اس کے ملک کے فوڈ اینڈ بیوریج سیکٹر پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مشروبات کی صنعت اور زراعت کا آپس میں گہرا تعلق ہے، اور منظم جوس انڈسٹری مقامی پھلوں کی بڑی مقدار خرید کر زرعی ویلیو چین کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں چینی کے تناسب اور غذائی معیار کے مطابق مختلف ٹیکس نظام رائج ہے، اس لیے پاکستان کو بھی صحت بخش مصنوعات اور صنعت میں جدت کو فروغ دینا چاہیے۔رانا تنویر حسین نے اس بات پر زور دیا کہ اسمارٹ ٹیکسیشن نہ صرف معیشت کی بہتری بلکہ دیہی ترقی اور غذائی تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے۔















