بسم اللہ الرحمن الرحیم

جموں و کشمیر

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کل سری نگر آئیں گے ، مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال ہوگی

سرکاری ملازمین کو سری نگر میں مودی کے جلسے میں لازمی شرکت کا حکم

  • بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کل سری نگر آئیں گے ، مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال ہوگی
  • وزیر اعظم نریندر مودی سری نگر میں بی جے پی کے انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • سری نگر میں نیشنل سیکیورٹی گارڈز اور اسپیشل سروسز گروپ کے اہلکار تعینات کر دیے گئے

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی جمعرات کو سری نگر میں بی جے پی کے انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے ۔ جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کی اپیل پر کشمیری عوا م مودی کی کشمیر آمد پر مکمل ہڑتال کریں گے ۔ نریندر مودی سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم  میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے ۔مودی کے دورے کے سلسلے میں سری نگر میں نیشنل سیکیورٹی گارڈز اور اسپیشل سروسز گروپ جیسے ایلیٹ سیکورٹی یونٹوں کو تعینات کیاگیا ہے ۔ مقبوضہ علاقے میں عوامی اجتماعات او ر مظاہروں پر پہلے ہی پابندی عائد ہے ۔سری نگر کی سبھی اہم شاہراوں پر موبائیل چیک پوائنٹس قائم کئے گئے جہاں پر راہگیروں اور مسافروں کی باریک بینی سے تلاشی لی جارہی ہیں جبکہ مشکوک نظر آنے والے افراد کے موبائیل فون بھی چیک کئے جارہے ہیں۔شہر کے مختلف علاقوں میں سراغ رساں کتوں کی مدد سے تلاشی لی جارہی ہے۔بخشی اسٹیڈیم کو پوری طرح سے سیل کیا گیا جبکہ اسٹیڈیم کے اردگر دعلاقوں پر ڈرون کے ذریعے نظر گزر رکھی جارہی ہیں۔اطلاعات کے مطابق جموں وکشمیر کی گرمائی راجدھانی سری نگر میں فورسز نے راہگیروں، موٹر سائیکل سواروں کی تلاشی لی جس دوران ان کے شناختی کارڈ باریک بینی سے چیک کئے جارہے تھے۔شہر سری نگر کے اکثر علاقوں میں موٹر سائیکلوں اور سکوٹیز کی ضبطی کا سلسلہ جاری ہے۔ پورے شہر میں سیکورٹی گرڈ کو مضبوط کیا گیا جبکہ سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مشکوک افراد پر نظر گزر رکھی جارہی ہیں۔ سری نگر شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر  فورسز کی تعیناتی عمل میں لا کر راہگیروں اور گاڑیوں کی باریک بینی سے تلاشی لی جارہی ہیں۔ جگہ جگہ اضافی اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی  ہے واضح رہے کہ وزیر اعظم مودی 7مارچ کو سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کریں گے۔

  • سرکاری ملازمین کو سری نگر میں مودی کے جلسے میں لازمی شرکت کا حکم
  • قابض انتظامیہ نے  7ہزارسرکاری ملازمین کو لانے کا منصوبہ بنایاہے

مقبوضہ کشمیر کی بھارتی انتظامیہ نے سرکاری ملازمین کو سری نگر میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے جلسے میں لازمی شرکت کا حکم جاری کیا ہے ۔ 7مارچ کو سرینگر کے بخشی اسٹیڈیم میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی مجوزہ ریلی میں شرکت کے لیے 7ہزارسرکاری ملازمین کو لانے کا منصوبہ بنایاگیاہے۔بھارتی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ تعلیم،زراعت، دیہی ترقی، دستکاری، سرینگر میونسپل کارپوریشن، انٹیگریٹڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ سروسز، ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ سروسز اینڈ اسپورٹس، نہرو یووا کیندر، جے اینڈ کے کھادی ودیہی صنعتی بورڈ،سماجی بہبود اور جل شکتی سمیت 13محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس تقریب میں اپنے ملازمین کی شرکت کو یقینی بنائیں۔ بھارتی اخبار دی ہندوکی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اس کے علاوہ محکمہ تحفظ خوراک کو شہر بھر میں واقع 62بیکری دکانوںکے نمائندوں کی موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی ہدایات موصول ہوئی ہیں۔ سرکاری سرکلر کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام آفیسرز اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ان کے متعلقہ شعبوں کو الاٹ کی گئی گاڑیاں حفاظتی اقدامات کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف مقررہ مقامات پر ہی استعمال کی جائیں گی۔ شرکا اورالاٹ شدہ گاڑیوں وغیرہ کی فہرست میں کوئی ردوبدل نہیں کیا جائے گا۔دی ہندو کو حاصل شدہ فہرست کے مطابق13محکموں کے تقریبا 7000ملازمین مودی کی ریلی میں شرکت کریں گے۔ تقریب کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ریلی میں موجود سرکاری ملازمین کے پس منظر کی جانچ پڑتال کے لیے ایک وسیع سیکیورٹی کلیئرنس کا عمل شروع کیا گیا ہے۔وادی کشمیرمیں بھارتی فورسز پہلے سے ہی چوکس ہیں۔ مودی کی ریلی کے مقام سے گزرنے والی گاڑیوں کی تلاشی کے علاوہ سڑکوں پر ناکے لگائے گئے ہیں جبکہ بخشی اسٹیڈیم کے ارد گرد مسلح فورسز کی نفری تعیناتی بڑھا دی گئی ہے۔ بھارتی پولیس اورپیراملٹری سینٹرل ریزروپولیس فورس کے اہلکار شہر اور دیگر مقامات پر گاڑیوں کی اچانک تلاشی لے رہے ہیں جبکہ مختلف مقامات پر خصوصی چیک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ بھارتی فورسزنے اسٹیڈیم کے اطراف گشت بھی بڑھا دی ہے۔

  • نریندر مودی کے دورہ سری نگر پر کشمیری عوام  ہڑتال کریں کل جماعتی حریت کانفرنس
  • مقبوضہ جموں وکشمیر میں آرایس ایس کے کشمیر دشمن ایجنڈے کو قبول نہیں کیا جائے گا

کل جماعتی حریت کانفرنس نے کشمیری عوام سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ متنازعہ علاقے مقبوضہ جموں و کشمیر کے دورے کے خلاف کل مکمل ہڑتال کی اپیل کی ہے ۔ہڑتال کا مقصد بھارت کی ہندوتوا حکومت کے جموں وکشمیر پر غیر قانونی تسلط ،بی جے پی اور آر ایس ایس کے کشمیر دشمن ایجنڈے کو مستردکرنا، تنازعہ کشمیر کے حل پرزوردینااور کشمیریوں جاری مظالم اور سیاسی حقوق سے انکی محرومی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانا ہے۔ اس کے علاوہ ہڑتال کا مقصدبھارت کے مسلسل مظالم، غیر قانونی نظربندیوں، دفعہ370اور 35Aسمیت کشمیریوں کے سیاسی حقوق کو دبانے، کشمیری سرکاری ملازمین کی برطرفی اور املاک کی ضبطی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانا بھی ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کشمیریوں پر ہڑتال کو کامیاب بنانے پرزوردیا ہے ۔ انہوں نے مودی کے دورے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد عالمی برادری کو مقبوضہ جموں وکشمیرکی حقیقی صورتحال کے بارے میں گمراہ کرنا ہے جہاں بی جے پی کے دور حکومت میں ظلم و بربریت کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔حریت ترجمان نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے فوری اقدامات کرے۔ انہوں نے کہاکہ تنازعہ کشمیر حل نہ ہونے سے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو شدید خطرہ لا حق ہے اور جموں و کشمیر کے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جموں وکشمیر پیپلز لیگ نے ایک بیان میں بھارتی وزیر اعظم کے مقبوضہ کشمیر کے دورے کے موقع پر حریت کانفرنس کی طرف سے ہڑتال کی کال کی مکمل حمایت کی ہے ۔دریں اثنا نریندر مودی کے مقبوضہ کشمیر کے دورے سے قبل پورے مقبوضہ علاقے میں سیکورٹی کے نام پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ مقبوضہ علاقے میں سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اور نگرانی کیلئے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں جبکہ لوگوں کی نقل وحرکت محدود کردی گئی ہے جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ نیشنل سیکیورٹی گارڈز اور اسپیشل سروسز گروپ جیسے ایلیٹ سیکورٹی یونٹوں کو تعینات کیاگیا ہے ۔ مقبوضہ علاقے میں عوامی اجتماعات او ر مظاہروں پر پہلے ہی پابندی عائد ہے ۔

Back to top button