بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

داسو واقعہ میں خود کش دھماکے کی تصدیق کردی گئی

ڈپٹی انسپکٹر جنرل(ڈی آئی جی)  کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) خیبرپختونخوا  جاوید اقبال کے مطابق داسو واقعے میں خودکش حملہ کیا گیا، حملہ آور کا تعلق افغانستان سے تھا ۔

اسلام آباد میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی جاوید اقبال نے بتایا کہ داسو واقعے میں 100 سے 120 کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا، حملہ آور کا نام خالد شیخ تھا جو پاکستانی شہری نہیں۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ  سی سی ٹی وی ویڈیوز سے داسو واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی کی نشاندہی ہوئی،موبائل فونز بھی حادثے کی جگہ سے برآمد ہوئے،90 سے زائد لوگوں کو کیس میں شامل تفتیش کیا،پورے ملک میں گاڑی سے متعلق معلومات لیں، شو روم مالک نے تصدیق کی کہ نومبر میں گاڑی شو روم سے لی گئی تھی۔

جاوید اقبال نے بتایا کہ کرائم سین سےشواہد ملےجن میں گاڑی کےحصے اور اعضا شامل تھے،اعضا کو نادرا ڈیٹا بیس میں تصدیق کرایا، اس سے تحقیقات میں لیڈ ملی،گاڑی افغانستان سے آئی تھی،گاڑی کا مالک کراچی چلا گیا تھا جہاں سے اسے گرفتارکیا۔

ڈی آئی جی نے بتایا کہ پورے واقعے میں 14 مختلف کردار شامل تھے،  دہشت گردوں کا نیٹ ورک پاکستان میں موجود تھا، پاکستان میں گروہ کے تمام کردار گرفتار کیے جا چکے ہیں،خالد عرف شیخ خود کش بمبار کا نام تھا اور وہ افغانستان کا شہری تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں مقیم کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) کا طارق اس گروہ کا سربراہ تھا، معاویہ اور طارق نے افغانستان میں را اور این ڈی ایس سےتربیت لی اور دونوں نے داسو واقعے کی منصوبہ بندی کی، افغانستان میں موجود سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے افغان حکومت سے رابطے میں ہیں، ہمارا مطالبہ ہےکہ حکومت افغانستان منصوبہ سازوں کو پاکستان کے سپرد کرے۔

اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ داسو حملہ ’را‘ اور این ڈی ایس نے کرایا ، منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی ، دہشت گرد حملے میں ملوث تمام کردار بے نقاب ہوگئے ہیں پاکستان میں موجود چار سہولت کار اور ہینڈلرز گرفتار کرلیے ہیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغان سفیر کےساتھ تمام معاملات شیئرکی ہیں،چینی ٹیم یہاں آئی تھی، ان کے ساتھ تمام معلومات شیئر کیں،وہ مطمئن دکھائی دیے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button